• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ

Updated: October 31, 2026, 3:05 PM IST | Tel Aviv

معروف اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ نے کہا کہ ان کی نسل کو ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد اس چیز کو تسلیم کرنے میں تقریباً ۱۰ سال لگ گئے جسے انہوں نے ”قبضے کا گناہ“ قرار دیا۔ ”اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ قبضے کا ہی نتیجہ ہے۔“ انہوں نے ”مذہبی جبر، آباد کاروں، یہودی دہشت گردی اور تکبر“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ایک اقلیت کو اپنی آزادی کیلئے لڑنے کا حق حاصل ہے۔“

Chelli Goldenberg. Photo: X
خیلی گولڈن برگ۔ تصویر: ایکس

معروف اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ یہ جان کر واضح طور پر لرز اٹھیں کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے سے متعلق ان کی تنقید ’چینل ۱۳‘ پر لائیو نشر ہو چکی ہے، جبکہ ان کا خیال تھا کہ کیمرے بند ہیں۔ یہ انٹرویو ان کے کریئر اور اسرائیلی ثقافتی زندگی میں ان کے کردار پر گفتگو کیلئے رکھا گیا تھا، لیکن اس کا رخ فلسطین-اسرائیل تنازع کی طرف مڑ گیا۔

جب اسرائیلی اداکارہ سے پوچھا گیا کہ ’کیا وہ اب بھی اسرائیلی ہونے پر خوش ہیں،‘ تو انہوں نے کہا کہ ”میں فخر محسوس کرنا چاہتی ہوں، لیکن اب مجھے اسرائیلی ہونے پر فخر نہیں رہا۔“ جب انٹرویو لینے والے ایک شخص نے انہیں متنبہ کیا کہ ٹیلی ویژن پر اس طرح کا تبصرہ کرنا ”خطرناک“ ہیں تو انہوں نے جواب دیا، ”میں یہ آن ایئر نہیں کہہ رہی ہوں۔ میں یہ دھیمی آواز میں کہہ رہی ہوں۔“

’اسرائیلی قبضہ ہی اس سب کا باعث بنا جو بعد میں پیش آیا‘

۱۹۵۴ء میں پیدا ہونے والی اداکارہ نے کہا کہ ان کی نسل کو ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد اس چیز کو تسلیم کرنے میں تقریباً ۱۰ سال لگ گئے جسے انہوں نے ”قبضے کا گناہ“ قرار دیا۔ ”اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ قبضے کا ہی نتیجہ ہے۔“ انہوں نے ”مذہبی جبر، آباد کاروں، یہودی دہشت گردی اور تکبر“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ایک اقلیت کو اپنی آزادی کیلئے لڑنے کا حق حاصل ہے۔“ اس پر ایک انٹرویو لینے والے نے جواب دیا کہ یہ اسرائیلی یا کسی بھی دوسرے عام شہریوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے

انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی تنقید محبت کی وجہ سے تھی، حب الوطنی کی کمی کی وجہ سے نہیں۔ ”میں ایک بڑی محبِ وطن ہوں۔ میں اس ملک سے پیار کرتی ہوں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے بچے کو کچھ ایسا بنتے دیکھیں جو آپ کو یہ کہنے پر مجبور کر دے کہ میں نے تمہاری اس طرح پرورش نہیں کی تھی۔“ انہوں نے کہا۔

گولڈن برگ کو اپنے انٹرویو کے لائیو ہونے کا احساسِ اس وقت ہوا جب انہیں بتایا گیا کہ وہ آن ایئر تھیں۔ ”آپ نے مجھے نہیں بتایا کہ ہم آن ایئر تھے۔ میں سمجھی تھی کہ کمرشیل وقفہ چل رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب اس معاملے پر کیا کروں۔ میں واقعی صدمے میں ہوں۔“ بعد ازاں انہوں نے اپنے اظہار کے انداز پر ناظرین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ایک انتہائی جذباتی انسان ہوں، جب بولتی ہوں تو بے پناہ جذبے سے بولتی ہوں۔ میں سراپا آگ اور شعلہ بن جاتی ہوں۔“

یہ بھی پڑھئے: الخلیل: اسرائیلی کارروائی میں بے گھر فلسطینیوں کیلئے شہریوں نے گھر کھول دیئے

گولڈن برگ کے تبصروں پر سوشل میڈیا پر آنے والا ردعمل منقسم رہا۔ کچھ صارفین نے انہیں غیر محبِ وطن قرار دیا جبکہ دیگر نے ان کی کھری بات اور بے باکی کی تعریف کی۔ گولڈن برگ پہلی بار نوعمری میں ایک ماڈل کی حیثیت سے عوام کی توجہ کا مرکز بنی تھیں اور بعد میں ۱۹۷۸ء میں آنے والی فلم ہا-لہاکا (دی ٹروپ) سے شہرت حاصل کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK