• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ فوجی دباؤ کم کرے تو ایک ہفتے میں ایران آبنائے ہرمز کھولنےکو تیار: رپورٹ

Updated: September 22, 2026, 4:04 PM IST | Washington

جاپان کے کیوڈو نیوز کے مطابق اگر امریکہ ایران کے خلاف فوجی دباؤ کو کم کرنے کے اقدامات کرے تو ایران ایک ہفتے میں آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے تیار ہے،یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پہلے ہی پہنچا دی گئی ہے۔

A ship destroyed in Iranian attacks in the Strait of Hormuz. Photo: X
آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں میں تباہ ایک جہاز۔ تصویر: ایکس

ایک نامعلوم ایرانی اہلکار نے منگل کے روز جاپان کے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ تہران نے پیشکش کی ہے کہ ’’اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے کی طرف ابتدائی اقدامات کرے تو وہ سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔‘‘ تاہم انادولو اس بیان کی درستگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔رپورٹ کے مطابق، یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پہلے ہی پہنچا دی گئی ہے۔ایرانی اہلکار نے کہا کہ اس تجویز میں ’’دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کے مستقل خاتمے تک پہنچنے کے لیے نئے مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے۸۱؍ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کو مسترد کر دیا۔ بعد ازاں ایرانی اہلکار نے کہا، ’’ایک معاہدے کی طرف بڑھنے کا امکان موجود ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارت کاری کو آگے بڑھانا ہے تو واشنگٹن کو سنجیدگی اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

واضح رہے کہ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق اختلافات کی وجہ سے ان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جو توانائی اور اجناس کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔یاد رہے کہ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اثاثوں پر حملے کیے۔ جبکہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق کے بعد، امریکہ اور ایران نے جون میں اسلام آباد میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ پر دستخط کیے، جس نے دونوں فریقوں کو طویل مدتی معاہدے پر بات چیت کے لیے۶۰؍ دن کا وقت  دیا۔لیکن دونوں فریقوں نے جلد ہی ایک دوسرے پر حملوں کا آغاز کردیا، اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی جبکہ تہران نے ہرمز بند کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK