پانی کا ذخیرہ ختم ہونے سے ٹینکر والوں اور پینے کا پانی سپلائی کرنے والے دکانداروں نے بھی پانی فراہم کرنے سے منع کر دیا۔ آج سے پانی سپلائی بحال ہو جائے گی۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 2:57 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
پانی کا ذخیرہ ختم ہونے سے ٹینکر والوں اور پینے کا پانی سپلائی کرنے والے دکانداروں نے بھی پانی فراہم کرنے سے منع کر دیا۔ آج سے پانی سپلائی بحال ہو جائے گی۔
ورلی کے قریب ڈاکٹر ای موسس روڈ پر واقع فیمس اسٹوڈیو کے سامنے بدھ کو ایک ہزار ۶۵۰؍ ملی میٹر قطر کے مین واٹر پائپ لائن میں شگاف پڑ نے سے بڑے پیمانے پر پانی ضائع ہونے اور پائپ لائن کی مرمت کا کام جاری ہونے سے جمعہ کو بھی جنوبی ممبئی کے جی سائوتھ، ڈی اور ای وارڈ کے مختلف علاقوں جن میں ورلی، پربھا دیوی، گرانٹ روڈ، بائیکلہ، مدنپورہ اور اطراف کے دیگر علاقے شامل ہیں، میں متعدد مقامات پر پانی بالکل نہیں آیا جبکہ کچھ جگہوں پر پانی کا دبائو کم ہونے سے شہریوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے رشتہ داروں کے گھروں پر جانا پڑا جن کے یہاں پانی آیا تھا۔ متواتر دوسرے دن بھی پانی سپلائی بند ہونے سے مذکورہ علاقوں کےمکینوں کوشدید دشواریوں سے گزرنا پڑا۔ پانی کا ذخیرہ ختم ہونے سے ٹینکروں والوں اورپینے کا پانی سپلائی کرنے والے دکانداروں نے بھی پانی فراہم کرنے سے منع کر دیا تھاجس کی وجہ سے مکینوں کو پینےکا پانی حاصل کرنے میں بھی دقتیں پیش آئیں ۔
دریں اثناء بی ایم سی کے ہائیڈرولک ڈپارٹمنٹ کے انجینئر دلیپ پاٹل نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پائپ لائن کی مرمت کا کام مکمل ہوچکا ہے، سنیچر (آج)سے معمول کے مطابق پانی سپلائی کیا جائے گا۔
بیلاسس روڈ کے رہنے والے رضوان خان نے بتایا کہ ’’ہماری بلڈنگ میں جمعہ کو بھی پانی نہ آنے سے بڑی پریشانی ہوئی۔ پانی کی ضرورت کے پیش نظر جمعہ کی علی الصباح دھوبی تالاب، کالبادیوی اور اطراف کے دیگر علاقوں کادورہ کیاجہاں ٹینکر سے پانی منگوایا جاتا ہے لیکن کسی بھی ٹینکر والے کے یہاں پانی نہیں تھا۔ انہوں نے پانی کا ذخیرہ نہ ہونے سے پانی سپلائی کرنے سے منع کر دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹٹوالا زچگی اسپتال میں سونوگرافی کے نام پر لوٹ کا الزام
مورلینڈ روڈ، نیانگر کے مکین محمد شاہد انصاری نے بتایا کہ ’’میرے گھر میں پینے کا بھی پانی نہیں تھا۔ پینے کاپانی سپلائی کرنے والوں کے یہاں بھی پانی نہیں تھا۔ متعدد دکانوں پر پانی خریدنے گیا لیکن سبھی نے کہاکہ پانی نہیں ہے کیونکہ ہماری طرح دیگر ضرورت مندوں نے ان دکانوں سے سارا پانی خرید لیا تھا۔ اگر پائپ لائن خراب ہوگئی ہے تو مقامی لیڈران کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی ضرورتوں کو پوری کرنے کی کوشش کریں لیکن کسی بھی لیڈر نے ایسے نازک وقت میں مدد نہیں کی بلکہ شدید گرمی میں بےیارومددگار چھوڑ دیا۔ ‘‘
تاڑ دیو کے ایک مکین نے کہا کہ ’’ بدھ کو جو پانی آیاتھا، اس میں سے کچھ پانی بچا ہوا تھا اس لئے جمعرات کو اس پانی سے ضروری گھریلو کام کاج ہوگیا تھالیکن جمعہ کو پانی نہ آنے سے بڑی دقت ہوئی۔ ایک توبی ایم سی کی طرف سپلائی کیا جانے والا پانی نہیں آیا، دوسرے ٹینکر اور دیگر ذرائع سے بھی پانی نہیں ملا جس سے عام لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی ۔ پیسہ دینے کے باوجود پینے کا پانی نہیں مل رہا تھا۔ ایسی صورت میں لوگ اپنے اُن عزیزوں کے گھروں پر جانے پر مجبور ہوگئے تھے جن کے گھروں میں پانی آیا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ جمعہ کی صبح ۸؍بجے ایک بائیک پر ۳؍افراد برش کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ اسی طرح ۲؍ نوجوان ایک اسکوٹر پر پانی بھر کر لاتے دکھائی دیئے۔ پانی کی کمی سے لوگوں کو اس طرح کی مشکلوں سے دوچار ہونا پڑا۔ ‘‘