امریکی سینیٹ میں یہ قرارداد ۴۸؍ کے مقابلے میں ۵۰؍ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی، یہ ایوانِ نمائندگان سے بھی منظورہوچکی ہے۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 2:59 PM IST | Washington
امریکی سینیٹ میں یہ قرارداد ۴۸؍ کے مقابلے میں ۵۰؍ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی، یہ ایوانِ نمائندگان سے بھی منظورہوچکی ہے۔
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔ سینیٹ میں یہ قرارداد ۴۸؍ کے مقابلے میں ۵۰؍ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی۔ یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظوری حاصل کرچکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، اس کے باوجود قرارداد کی منظوری کو قابلِ ذکر پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک ایسی قانون سازی کی حمایت کی ہے جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ کانگریس کی جانب سے ریپبلکن صدر کو تازہ ترین جھٹکا ہے۔
یہ قرارداد اس بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے جو ٹرمپ کے اپنے کچھ ریپبلکن ساتھیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ تشویش اس غیر مقبول جنگ سے متعلق ہے جو۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کے دونوں ایوانوں نے۱۹۷۳ء میں’ وار پاورز ریزولیوشن ‘(جسے عام طور پر وار پاورز ایکٹ کہا جاتا ہے) کے نفاذ کے بعد پہلی بار کوئی ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر کو امریکی مسلح افواج کو جنگی کارروائیوں سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہو۔ اگرچہ یہ ووٹ بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہی رہے گا لیکن یہ ٹرمپ کے لئے ایک دھچکا ضرور ہے جنھیں حال ہی تک کانگریس کے ریپبلکن اراکین کی تقریباً متفقہ حمایت حاصل تھی۔
جاپان: شمال مشرقی ساحل کے قریب طاقتور زلزلہ، سونامی کا خطرہ یا کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں
یہ قرارداد ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انتظامیہ کانگریس سے جنگ کے اخراجات کے لئے دسیوں ارب ڈالر کی منظوری مانگنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں ٹرمپ کے ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے لیکن نومبر میں آنے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے چند اراکین نے کچھ معاملات پر صدر سے اختلاف کیا ہے۔ یہ انتخابات یہ طے کریں گے کہ پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ حال ہی میں کچھ ریپبلکنز نے ٹرمپ کے۱ء۸؍ ارب ڈالر کے’ اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ پر اعتراض کیا تھا جو ان سیاسی حامیوں کے معاوضے کے لئے ہے جن کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں وفاقی حکام نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح ان کی امیگریشن کریک ڈاؤن کے لئے۷۰؍ ارب ڈالر کا بل بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز اور اپسوس کے پول کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ صرف۴؍ میں سے ایک امریکی یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے اخراجات کے لحاظ سے قابلِ جواز ہے اور اکثریت کو خدشہ ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: دو طاقتور زلزلوں نے تباہی مچا دی، ۳۲؍ ہلاکتیں، ۷۰۰؍ سے زائد افراد زخمی
سینیٹ کا ووٹ بڑی حد تک پارٹی بنیادوں پر تھا جس میں۴؍ ریپبلکنز نے ایک ڈیموکریٹ کو چھوڑ کر باقی تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حق میں ووٹ دیا۔۲؍ ریپبلکن سینیٹرز نے ووٹ نہیں دیا۔ منگل دیر رات ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اس ووٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بری طرح سے وقت کے خلاف اور بے معنی قرار دیا اور حق میں ووٹ دینے والوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو ’سکون‘ فراہم کر رہے ہیں اور ان کا کام ’مزید مشکل‘ بنا رہے ہیں۔