• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل میں نتائج کا اعلان، سیاسی بحران کا خدشہ

Updated: October 31, 2026, 3:16 PM IST | Agency | Tel Aviv

نیتن یاہو کے اتحاد نے۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں۵۳؍ نشستیں حاصل کیں جن میں سے۲۷؍ نشستوں کے ساتھ لیکوڈ سب سے بڑی جماعت۔

A supporter of Netanyahu is seen outside the residence of Gadi Eisenkot in the Israeli city of Herzliya. Photo: AP/PTI
اسرائیلی شہر ہرزلیہ میںگادی آئزن کوٹ کی رہائش گاہ کے باہر نیتن یاہو کا حامی نظرآرہا ہے۔ تصویر: اےپی/ پی ٹی آئی

جمعہ کو جاری ہونے والے سرکاری نتائج کے مطابق اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کا اتحاد اپوزیشن کے مقابلے میں آگے تو رہا لیکن پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس دوران ان کی جماعت لیکوڈ کی جانب سے ’ووٹ چوری‘ کے غیر مصدقہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل الیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے اتحاد نے۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں۵۳؍ نشستیں حاصل کیں جن میں سے۲۷؍ نشستوں کے ساتھ لیکوڈ سب سے بڑی جماعت رہی۔

دوسری جانب ان کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے۴۸؍ نشستیں حاصل کیں جبکہ عرب جماعتوں نے باقی ۱۹؍نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج کو نیتن یاہو کے لئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے پارلیمان میں ان کے پاس۶۸؍ نشستیں تھیں۔رپورٹس کے مطابق اب ملک کو ممکنہ طور اتحادیوں کے درمیان ایک مشکل قسم کے مذاکرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ

منگل کو ہونے والے انتخابات کے بعد ابتدائی جائزوں میں نتین یاہو کی ناکامی کے امکان سامنے آتے ہی لیکوڈ پارٹی کی جانب عرب جماعتوں پر انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات لگانا شروع کیا اور بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ انہوںنے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لئے بیرونی مدد کا استعمال کیا۔جمعرات کو ایک اشتعال انگیز بیان میں نیتن یاہو کی جماعت نے اعلان کیا کہ اسرائیل میں انتخابات چوری کر لئے گئے ہیں۔یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس مبینہ مداخلت کا مقصد پارلیمنٹ پر بیرونی قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے اور دائیں بازو کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔

الزامات میں اسرائیلی میڈیا پر پھیلائی گئی یہ بات بھی شامل تھی کہ قطر نے عرب جماعتوں کو ووٹ خریدنے کے لئے فنڈز فراہم کئے۔ متعلقہ جماعتوں اور قطر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے کیمپ پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔نیتن یاہو  اپنے عہدے پر برقرار ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں ممکنہ اتحادوں پر غور کر رہی ہیں اور حکومت سازی کے لئے درکار اکثریت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

آئندہ انتخابات ہوسکتےہیں

نامزد امیدوار کے لئے پارلیمنٹ کے کم از کم۶۱؍ اراکین کی حمایت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔اگر متعدد کوششوں کے باوجود سیاسی جماعتوں میں اتفاق نہ ہو سکا تو اسرائیل کو اگلے سال کے آغاز میں دوبارہ عام انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حالانکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کہہ چکے ہیں کہ نئے انتخابات سے ہر صورت بچنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK