• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جلگاؤں شالارتھ گھوٹالہ:۵۵۰؍ بوگس ذاتی منظوریوں کی منسوخی کا حکم

Updated: October 31, 2026, 4:06 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

محکمہ تعلیم کی جلگاؤں ضلع میں بڑی کارروائی! ، غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں روکنے کی ہدایت ۔ ناسک ڈویژن میں سامنے آنے والے مجموعی ۸۹۳ ؍معاملات میں سے ۶۰۰؍ معاملات صرف جلگاؤں ضلع کے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بوگس ذاتی منظوری اور شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے کے معاملے میں محکمہ تعلیم نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ جلگاؤں ضلع میں ۵۵۰؍سے زائد بوگس ذاتی منظوریوں کو رد کرنے کے احکامات ضلع پریشد کے محکمہ تعلیم کو موصول ہو چکے ہیں۔ اب ان احکامات کو متعلقہ تعلیمی اداروں اور اساتذہ تک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں روکنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ریاست بھر میں موضوعِ بحث بنے شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے میں اس بڑی کارروائی کے بعد تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

بنیادی طور پر یہ گھوٹالہ ناسک ڈویژن کے ۳؍ اضلاع جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار میں بڑے پیمانے پر سامنے آیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ لیڈران کے تعلیمی اداروں میں بھی بڑے پیمانے پر اساتذہ کی تقرریوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ان تقرریوں کیلئے بوگس ذاتی منظوری اور شالارتھ آئی ڈی تیار کرکے حکومت سے اساتذہ کی تنخواہیں حاصل کی گئیں۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق ناسک ڈویژن میں سامنے آنے والے مجموعی ۸۹۳ ؍معاملات میں سے تقریباً ۶۰۰؍ معاملات صرف جلگاؤں ضلع کے ہیں۔ الزام ہے کہ اس گھوٹالے کے ذریعے حکومت کو تقریباً ۱۶۰ ؍کروڑ روپے کا نقصا ن پہنچایا گیا ہے۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات ناسک پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی )  کر رہی ہے، جس کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مذکورہ کارروائی ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:واشم: سمردھی ہائی وے پرکسانوں کا زبردست احتجاج

متعلقہ افسران اور ملازمین کی بھی جانچ ہوسکتی ہے

اس معاملے میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے پیش نظر متعلقہ عہدوں پر کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی محکمہ جاتی انکوائری ہونے کا بھی امکان ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے تنخواہیں حاصل کی گئی ہیں تو متعلقہ افراد سے یہ رقم واپس وصول کی جاسکتی ہے۔

اس کارروائی کے بعد بوگس منظوری کی بنیاد پر تقرری حاصل کرنے والے اساتذہ، متعلقہ تعلیمی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اس عمل میں شامل دیگر افسران و ملازمین کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔وہیں اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے کے معاملے میں آنیوالے دنوں میں کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور مزید معاملات سامنے آسکتے ہیں۔

منظوری کے ثبوت ہی غائب!

شالارتھ گھوٹالہ معاملے کی جانچ کے لئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران کئی معاملات میں اساتذہ کی تقرری سے قبل شائع کیے گئے اشتہارات، ریزرویشن رجسٹر، انٹرویو کی تفصیلات اور سلیکشن کمیٹی کی قراردادیں جیسی اہم دستاویزات دستیاب نہیں پائی گئیں۔ضلع ایجوکیشن آفیسر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفاتر میں ذاتی منظوری اور شالارتھ آئی ڈی کے لیے پیش کیے گئے تجاویز کی اصل فائلیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ بعض احکامات پر درج آنے اور جانے والے نمبرات سرکاری رجسٹر میں درج نمبرات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ضروری دستاویزات کے بغیر کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے تجاویز تیار کرکے شالارتھ آئی ڈی حاصل کیے جانے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK