مقتول کے اہل خانہ اوربڑی تعداد میں پارٹی کارکنان نے حراست میں لئے گئے مظاہرین پر ’تھرڈڈگری ٹارچر‘ کا الزام لگایا۔
مقتول پردیپ پورنیکر کے بیٹے رام پورنیکر پریس کانفرنس میں پولیس پر الزام لگاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
اقبا ل انصاری
iqbal@mid-day.com
تھانے: شیوسینا(یوبی ٹی) کےلیڈرپردیپ پورنیکر کے قتل کا معاملہ مزید سنگین ہوتا جارہا ہے۔ جمعرات کو دونوں شیو سیناکی جانب سے نکالے گئے مورچے کے بعد جمعہ کو آنجہانی پردیپ پورنیکر کے بیٹے رام پورنیکر اور ان کے چچا جیناتھ پورنیکر نے بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ کاپرباؤڑی پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا۔ رام پورنیکر نے پولیس کے سامنے باضابطہ طورپر وہ تمام ثبوت اور میڈیکل رپورٹس پیش کیں جو حراست میں لئے گئے نوجوانوں بشمول ارجن پندرے، پر کئے گئے مبینہ ’تھرڈ ڈگری ٹارچر‘ کی تصدیق کرتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے نوجوانوں کو برہنہ کرکے تیل لگے بیلٹ سے پیٹا ۔ ارجن پندرے نے الزام لگایا کہ پولیس نے لاک اپ میں لے جا کر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مکمل طور پر برہنہ کر دیا اور ان کے ساتھ نازیبا حرکت بھی کی۔
پورنیکر خاندان نے مطالبہ کیا کہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آردرج کی جائے اور انہیں معطل کیا جائے۔ڈپٹی پولیس کمشنر نے پورنیکر خاندان کو یقین دلایا کہ تھانے پولیس عملے کے رویے کی مکمل جانچ کی جائے گی اور خاطی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پردیپ پورنیکر قتل کیس کے سلسلے میں جمعرات کو دونوں شیو سینا کے حامیوں نے پولیس کمشنر کے دفتر پر مورچہ نکالا تھا۔اس دوران تھانے کا ماحول کشیدہ ہو گیا تھا۔پردیپ پورنیکر کے اہل خانہ اور شیو سینا(یوبی ٹی) کے لیڈروں کا الزام تھا کہ قتل کیس میں پولیس دباؤ میں آکر جانبداری سے کام کر رہی ہے اور کلیدی ملزمین ایکناتھ شندے کے خیمے کی لیڈر میناکشی شندے اور ان کے شوہر کو گرفتار نہیں کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ایکناتھ شندے کے خیمے کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو زبردستی گھسیٹا جارہا ہے۔
کلیدی ملزمین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ
پولیس افسران سے ملاقات کرنے کے بعد رام پورنیکر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ پورنیکر خاندان کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے لڑکوں اور نوجوانوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کے بجائے پردیپ پورنیکر کے قتل کے کلیدی ملزمین سابق میئر میناکشی شندے اور انکے شوہر راجندر شندے کو گرفتار کرے۔
پولیس پر ناکامی کا الزام
شیو سینا(یوبی ٹی) تھانے کے لیڈر راجن وچارے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جو کام خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی)کے۲۳؍پولیس افسران ایک ماہ میں نہ کر سکے، وہ رام اور خوشبو نے کر دکھایا۔ انہوں نے ایسی ویڈیوز پیش کیں جن میں مبینہ طور پر کلیدی شوٹر نکھل یادو کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ لیتے دکھایا گیا ہے۔
نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کا ردعمل
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے جمعرات کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ اس قتل پر سیاست کرناانتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولیس کمشنر کو غیر جانبدارانہ تفتیش کی ہدایت دی گئی ہے اور شہر میں توڑ پھوڑ یا قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ یاد رہے کہ اس کیس میں بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ شندے گروپ کی اہم لیڈر اور سابق میئر میناکشی شندے نے اپنے پارٹی عہدے ( خواتین ونگ کی ضلعی سربراہ) سے استعفیٰ دے دیا۔ واضح رہے کہ دو دن قبل ہی پولیس نے ان سے ۷؍گھنٹے تفتیش کی تھی۔
پورنیکر خاندان کی اپنی تفتیش
اس کیس میں سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب یہ بات سامنے آئی کہ مقتول پردیپ پورنیکر کے ۲۵؍ سالہ بیٹے رام (جو مرچنٹ نیوی میں تھے) اور ان کی ۲۹؍ سالہ بھتیجی خوشبو (جو ایک پائلٹ اور سوشل میڈیا پروڈیوسر ہیں) نے پولیس کے بھروسے بیٹھنے کے بجائے خود تفتیش شروع کی ۔ ان دونوں نے پورے تھانے شہر کے مختلف حصوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج خود حاصل کی تھی۔ انہوں نے حاصل کردہ ویڈیوز کا تجزیہ کرنے اور ملزمین کے جوتوں اور حرکات و سکنات کو ملاکر مصنوعی ذہانت ( اے آئی) ٹیکنالوجی اور ڈجیٹل پرزنٹیشن تیار کیا تھا۔