شیوسینا ادھو کے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ سمیت متعدد کارکن وکسان حراست میں، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کیلئے ایک لاکھ روپے امداد کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 4:03 PM IST | Ali Imran | Washim
شیوسینا ادھو کے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ سمیت متعدد کارکن وکسان حراست میں، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کیلئے ایک لاکھ روپے امداد کا مطالبہ۔
ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو فوری اور مناسب مالی امداد فراہم کرنے کے مطالبے کے تحت شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کی جانب سے جمعہ کے دن ضلع واشم میں زبردست احتجاج کیاگیا۔ شیلوبازار کے قریب سے گزرنے والے سمردھی ایکسپریس ہائی وے پر ٹھاکرے گروپ کے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ کی قیادت میں سیکڑوں کسان اور متعدد شیوسینک پہنچے ۔ اس دوران جب مظاہرین نے سمردھی ایکسپریس وے پر چڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیںبزور طاقت روک دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے احتجاج کی قیادت کرنے والے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ سمیت کئی کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے لیا ہے ۔
فی ہیکٹر ایک لاکھ روپے امداد دینے کا مطالبہ
ریاست میں خشک سالی کے باعث کسانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد ناکافی ہے۔ کسانوں کو راحت پہنچانے کیلئے امدادی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے تمام متاثرہ کسانوں کو بلا امتیاز فی ہیکٹر ایک لاکھ روپے مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی مطالبے کے تحت خشک سالی سے متاثرہ سیکڑوں کسان، شیوسینا (ٹھاکرے) کے عہدیداران اور کارکنوں کے ہمراہ سڑکوں پر اتر آئے۔
یہ بھی پڑھئے: بحران زدہ چار ممالک میں۹۰؍ لاکھ افراد کو موسمِ سرما میں امداد کی ضرورت: یو این
سمردھی قومی شاہراہ بند کرنے کی کوشش
کسانوں کے مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لئے شیوسینا (ادھو)نے سمردھی قومی شاہراہ کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں شیلوبازار کے علاقے میں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ اکولہ-ارنی شاہراہ کے نیچے جمع ہونے والے کسانوں اور شیوسینکوں نے جم کر نعرے بازی کی اور سمردھی قومی شاہراہ پر چڑھنے کی کوشش کی۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں خاصے جارحانہ انداز میں احتجاج کر رہے تھے۔
مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ
احتجاج کے پیش نظر علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ واشم ضلع کی سرحد پر ہی مظاہرین کی گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ اکولہ-ارنی شاہراہ کے نیچے پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر مظاہرین کو سمردھی ہائی وے پر جانے سے روک دیا۔ اس دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان دھکم پیل اور جھڑپ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پولیس نے کارروائی کی ۔ پولیس نے احتجاج کی قیادت کرنے والے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ سمیت کئی اہم کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے لیا۔ فی الحال علاقے میں پولیس کا سخت بندوبست برقرار ہے۔ اگرچہ صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ شیوسینا ادھو کے اس جارحانہ احتجاج کے ذریعے کسانوں کے مسائل پر ریاستی حکومت کو گھیرنے اور متاثرہ کسانوں کے لیے فوری مالی امداد کا مطالبہ شدت سے اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔