میونسپل کمشنر نے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔نام کی تبدیلی، پرانے اندراج اور جانچ کیلئے یکساں طریقۂ کار پر زور۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 4:08 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
میونسپل کمشنر نے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔نام کی تبدیلی، پرانے اندراج اور جانچ کیلئے یکساں طریقۂ کار پر زور۔
بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان کریٹ سومیا کی جانب سے بھیونڈی نظام پور شہر میونسپل کارپوریشن میں برتھ سرٹیفکیٹس کی تقسیم اور ریکارڈ میں تبدیلیوں کے عمل پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد میونسپل انتظامیہ نے پورے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر کی صدارت میں محکمۂ صحت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیدائش و اموات کے اندراج، ناموں میں تبدیلی اور پرانے واقعات کو ریکارڈ میں شامل کرنے کے طریقۂ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔میٹنگ میں حکام سے سی آر ایس پورٹل، ایس اے پی سسٹم اور تاخیر سے رجسٹر ہونے والے پیدائش و اموات کے واقعات (ایڈ اولڈ ایونٹ) کے ذریعے انجام پانے والی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات طلب کی گئیں۔ کمشنر نے دریافت کیا کہ مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے کتنے نئے پیدائشی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، کتنے معاملات میں نام کی تبدیلی کی منظوری دی گئی اور درخواستوں کی جانچ کے لیے کن اصولوں اور دستاویزات کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لکھنؤ کی تاریخی کسمنڈی مسجد و مقبرہ پر پاسی سماج کا دعویٰ، بھگوا عناصرکی شر انگیزی
ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں یکساں پالیسی اور واضح رہنما اصولوں کے فقدان کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے باعث شفافیت اور جوابدہی سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پیدائش و اموات کے اندراج جیسے حساس اور قانونی اہمیت کے حامل معاملات میں معمولی غفلت بھی مستقبل میں تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمشنر نے تمام درخواستوں، خصوصاً نام کی تبدیلی اور تاخیر سے اندراج کے معاملات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ یہ کمیٹی درخواستوں کے اندراج سے لے کر منظوری تک کے پورے عمل کا جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر اصلاحی تجاویز بھی پیش کرے گی۔اس کے ساتھ ہی کمشنر نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک جامع اور معیاری اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی ) تیار کیا جائے، تاکہ تمام درخواستوں پر یکساں اصولوں کے تحت کارروائی ہو اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔