Inquilab Logo Happiest Places to Work

لازمی مراٹھی کیخلاف رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا احتجاج

Updated: August 25, 2026, 11:33 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

کاندیولی، ملاڈ، جوگیشوری، اندھیری، سانتاکروز اور دہیسر میںخدمات بند کردیں۔ مسافروں کو شدیددشواریاں۔ آرٹی او پرجرمانہ وصول کرنے کا الزام۔

Police personnel are seen deployed on Kandivali Link Road following the dispute. Picture: PTI
تنازع کے بعد کاندیولی لنک روڈ پرپولیس اہلکارتعینات نظر آرہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

 پیر کو کام کے پہلے ہی دن ہزاروں مسافروں کو آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے احتجاج اور خدمات بند کرنے کی وجہ سے شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مسافروں نے ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر جگہوں تک پہنچنے کیلئے تھکا دینے والی پریشانیوں کی شکایت کی۔ ان ڈرائیوروں نے مراٹھی نہ جاننے پر آرٹی او افسران کے ذریعہ بھاری جرمانہ عائد کرنے، لائسنس اور بیج ضبط کرنے جیسی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے صبح سے کام بند کردیا تھا۔ واضح رہے کہ آر ٹی او کے فلائنگ اسکواڈ کے ذریعہ جگہ جگہ ڈرائیوروں کے مراٹھی جاننے کی جانچ کرنے کی وجہ سے مراٹھی نہ بول پانے والے ڈرائیوروں میں خوف کا ماحول ہے۔ بہت سے ڈرائیور احتجاج شروع ہونے سے قبل ہی مختلف مقامات پر جانے سے اس لئے منع کررہے تھے کہ وہاں راستے میں مراٹھی کی جانچ کی جارہی تھی۔ ایسے میں پیر کو اچانک چند ڈرائیوروں نے تمام ڈرائیوروں کو احتجاجاً گاڑیاں بند رکھ کر احتجاج کرنے کو کہا۔ اگرچہ اس ہڑتال کا اعلان کسی یونین نے نہیں کیا تھا لیکن وہاٹس ایپ میسیج، سوشل میڈیا پیغامات اور ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرائیور اس تحریک میں شامل ہوتے چلے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۵؍ ستمبر کو کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاجی مارچ

اس ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر کاندیولی مشرق کے لوکھنڈ والا میں  لنک روڈ اور کاندیولی مغرب میں لال جی پاڑہ میں دیکھنے کو ملا جہاں ڈرائیوروں نے نعرہ لگانے کے علاوہ چکہ جام کیا، وہ رکشا رکوا دیئے جو مسافروں کو ان کی منزلوں پر لے جارہے تھے جس کی وجہ سے یہاں تقریباً آدھے گھنٹے تک ٹریفک جام ہوگیا اور پولیس کو مداخلت کرکے راستہ صاف کرنا پڑا جس کے بعد گاڑیاں معمول کے مطابق گزرنے لگیں۔ اس کے علاوہ جوگیشوری، ملاڈ مغرب، سانتا کروز، دہیسر، اندھیری جیسے علاقوں میں بھی ہڑتال کا کافی اثر دیکھنے کو ملا۔ ان علاقوں میں  بھی مسافروں کو طویل وقفہ تک رکشا اور ٹیکسی حتیٰ کہ اولا اور اوبر گاڑیاں بھی ملنا مشکل ہوگئی تھیں۔ رکشا اور ٹیکسی کی ہڑتال کی وجہ سے اولا اور اوبر گاڑیوں پر بوجھ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے یہ گاڑیاں بھی نہیں مل رہی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ظہران ممدانی کوئی اینٹی نیشنل نہیں کہ میں ان سے مل نہیں سکتا‘‘

کاندیولی میں احتجاج کرنے والے رکشا ڈرائیوروں نے کہا کہ ان میں ۶۰؍ سے ۶۵؍ برس کے لوگ بھی شامل ہیں جو کبھی اسکول نہیں گئے اور اس عمر میں ان کیلئے اسکول جانا اور مراٹھی سیکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ان کے مطابق وہ کچھ ٹوٹی پھوٹی مراٹھی بول لیتے ہیں جسے آر ٹی او افسران کو قبول کرلینا چاہئے۔ ان ڈرائیوروں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ آر ٹی او افسران ڈرائیوروں سے ۱۰، ۱۵؍ یا ۲۵؍ ہزار روپے تک کا بھاری جرمانہ وصول کر رہے ہیں جسے ادا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ مراٹھی نہ آنے پر ان کا لائسنس اور بیج بھی ضبط کیا جارہا ہے اور ان سب کارروائیوں سے بیزار ہوکر انہوں نے احتجاجاً کام بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ ان ڈرائیوروں نے لگاتار ۳؍ روز تک ہڑتال جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن شام ہونے تک احتجاج اور ہڑتال کا اثر کچھ کم ہوتا نظر آیا۔ 

ہڑتال کے سبب شیوسینا (شندے) لیڈر سنجے نروپم نے پرتاپ سرنائک سے ملاقات کرکے شکایت کی کہ ایک مہینے کا نوٹس دیئے بغیر ہی ڈرائیوروں پر ۲۵؍ ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ میں مراٹھی زبان پر تنازع۔ ایم این ایس کی مداخلت

بھاری جرمانہ اورتوڑپھوڑکی افواہیں

  ایم این ایس چاندیولی-چارکوپ اسمبلی حلقہ کے صدر دنیش سالوی نے کہا کہ رکشا والوں میں کسی نے افواہ پھیلا دی تھی کہ آر ٹی او والے ان سے ۵؍ ہزار روپے جرمانہ وصول کررہے ہیں، رکشا توڑے جارہے ہیں لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ یہ سب افواہیں ہیں تو وہ کام پر لوٹنے لگے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں مراٹھی نہیں آتی تو یہ بتادیں کہ انہیں مراٹھی نہیں آتی، میں سیکھتا ہوں، تب بھی چلے گا تاہم مراٹھی کی توہین، جھگڑا یا کسی کے ساتھ مار پیٹ نہ کریں۔ انہوں نے مارپیٹ والی بات اس لئے کہی کہ کاندیولی میں ہی ایک مراٹھی رکشا ڈرائیور کی پٹائی  کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

’’آرٹی او افسران پر کارروائی ہوگی‘‘

وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے متنبہ کیا کہ جو آر ٹی او افسران مراٹھی سیکھنے کیلئے دی گئی ایک مہینے کی مدت ختم ہونے سے قبل ڈرائیوروں کے خلاف ناجائز طور پر کارروائی کرتے پائے گئے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ نوٹس کے باوجود ایک مہینے میں مراٹھی نہ سیکھنے والوں کے لائسنس اور بیج معطل کرکے انہیں مراٹھی سیکھنے کیلئے مزید ۳؍ مہینوں کی مہلت دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی اتنی مہلت ملنے کے باوجود مراٹھی نہیں سیکھتا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK