کانگریس نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور ستیش مہانا کے خلاف معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے اسپیکر کے بہانے بی جے پی کونشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 11:44 AM IST | Agency | Lucknow
کانگریس نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور ستیش مہانا کے خلاف معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے اسپیکر کے بہانے بی جے پی کونشانہ بنایا۔
مکمل ’وندے ماترم‘ پڑھنے کے تنازع کے درمیان ہی قومی ترانہ ’جن گن من‘ کی توہین کے تعلق سے اترپردیش اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا کا ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو بی جے پی کو گھیرنے کا موقع ہاتھ آگیا اور سبھی نے زعفرانی پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی قیاس آرائیاں
دراصل ستیش مہانا کو اناؤ میں ایک تقریب کے دوران قومی ترانہ ’جن گن من‘ بجائے جانے کے وقت اسے چھوڑ کر وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم مہانا نےوائرل ویڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی ترانے کے دوران نہ رکنے کا دعویٰ جھوٹا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس تقریب میں موجود نہیں تھے۔ ’گارڈ آف آنر‘ اور قومی ترانے کے پروگرام الگ الگ تھے۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی، کانگریس پارٹی کی تقریبات میں صرف ’وندے ماترم‘ کے دو بند گانے کے فیصلے پر اسے نشانہ بنا رہی ہے اور اسے ’قومی گیت کی توہین‘ قرار دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنیچر کو پرنسپل کونسل کی جانب سے منعقدہ تقریب میں قومی ترانہ بجنے کے دوران اسپیکر چند سیکنڈ تک اپنی جگہ کھڑے رہے، پھر مڑ کر سلامی کے ڈائس سے نیچے اتر گئے۔ قریب کھڑے کچھ حامی ان کے پاس پہنچے اور ان کے پاؤں چھوتے ہوئے نظر آئے۔ قومی ترانہ بجتا رہا اور مہانا اپنی گاڑی کی جانب بڑھتے ہوئے تقریب گاہ سے روانہ ہوگئے۔ کانپور کی مہراج پور اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے مہانا نے اُناؤ کے پورن نگر میں واقع ایس وی ایم انٹر کالج میں پرنسپل کونسل کے صوبائی کنونشن اور سیمینار میں شرکت کی تھی۔ پروٹوکول کے تحت تقریب گاہ میں پولیس نے مہانا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ گارڈ آف آنر ختم ہونے کے فوراً بعد قومی ترانہ بجنا شروع ہوا اور ویڈیو میں انہیں احاطے سے نکلنے کیلئے اپنی گاڑی کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام نے بھی اسپیکر کے بہانے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔