سرکاری کاغذات پر کنواں کھود دیا گیا مگر گائوں میں کہیں کنواں نہیں ہے، شکایت کرنے والے کسان کو پولیس نے زدوکوب کیا، اس نے خود کو ختم کر لیا۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 11:15 AM IST | Mumbai
سرکاری کاغذات پر کنواں کھود دیا گیا مگر گائوں میں کہیں کنواں نہیں ہے، شکایت کرنے والے کسان کو پولیس نے زدوکوب کیا، اس نے خود کو ختم کر لیا۔
ہنگولی ضلع میں ایک نوجوان کسان کی خود کشی کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہ معاملہ جتنا دردناک ہے اتنا ہی مضحکہ خیز بھی۔ کسان نے اس لئے خود کشی کی ہے کہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے کسان کے کھیت میں کنواں کھودا ہے جبکہ وہاں کوئی کنواں ہے ہی نہیں ۔ جب کسان نے پولیس میں شکایت کی تو پولیس نے کسان ہی کو دھمکانا شروع کیا۔ تنگ آکر کسان نے اپنے کھیت میں ایک پیڑ سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ اب مقامی باشندوں نے احتجاج شروع کیا ہے کہ جب تک کسان کاوہ کھویا ہوا کنواں مل نہیں جاتا جو انتظامیہ نے کھودا تھا تب تک وہ اس پیڑ کے پاس سے نہیں ہٹیں گے۔ شاید انتظامیہ کا کھودا ہوا کنوان چوری ہوگیا ہے لہٰذا پولیس معاملے کی جانچ کرے اور کھویا ہوا کنواں ڈھونڈ کر دے۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین ریزرویشن بل پر اپوزیشن کا شدید اعتراض، ایوان میں گرما گرم بحث
اطلاع کے مطابق ہنگولی کے سین گائوں تعلقہ میں واقع دھنگر واڑی گاؤں میںپنچایت سمیتی کی جانب سے روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت گائوں میں کنویں کھودے گئے لیکن یہ کنویں صرف کاغذپر کھودے گئے گائوں میں کہیں کوئی کنواں دکھائی نہیں دیا۔ گورکھ پاتلے (۲۶) نامی کسان نے اس معاملے کی شکایت درج کروائی جس کے بعد افسران کی بدعنوانی سامنے آئی۔ اس کنواں گھوٹالہ کے معاملے میں سینگاؤں پنچایت سمیتی کے تین عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کروایا۔ جبکہ ضلع پریشد کے سی او نے خاطی افسران اور ملازمین کو ملازمت سے معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس پورے معاملے کی جانچ ہنگولی کے اکنامک آفینس ونگ کے سپرد کی گئی۔مگر معاملے کی تفتیش آگے بڑھانے کے بجائے پولیس نے گورکھ پاتلے کو پوچھ تاچھ کیلئے بلایا اور مبینہ طور پر اسے زدوکوب کیا۔ نیزسخت کارروائی کی دھمکی دی۔ اس کی وجہ سے گورکھ پاتلے پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے کھیت میں ایک پیڑ سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ اس پر گائوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ گائوں والوں نے درخت کے اطرف دھرنا شروع کر دیا جہاںگورکھ پاتلے کی لاش لٹک رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک قصوروار پولیس افسران و ملازمین، نیز انتظامی اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی وہ خودکشی کرنے والے کسان کی لٹکتی لاش کو نیچے نہیں آنے دیں گے۔