ہرمن پریت کور ایک ایسی ہندوستانی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو توازن اور گہرائی کے باعث اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 3:16 PM IST | Birmingham
ہرمن پریت کور ایک ایسی ہندوستانی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو توازن اور گہرائی کے باعث اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔
ہرمن پریت کور کی قیادت میں ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم آئی سی سی ویمنز ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ۲۰۲۶ء کے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف پاکستان کے خلاف کامیابی کے ساتھ مہم کا آغاز کرنا چاہے گی جبکہ ایجبسٹن اسٹیڈیم میں ہونے والے اس مقابلے میں پاکستانی ٹیم اپ سیٹ کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔
یہ مقابلہ نہ صرف گروپ مرحلے کی پوائنٹس ٹیبل کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کاغذی طور پر ہندوستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے ۱۶؍ ٹی۔۲۰؍ مقابلوں میں سے ۱۳؍ میں ہندوستان کامیاب رہا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار اس میچ سے جڑے ذہنی دباؤ کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ ہندوستان کیلئے چیلنج صرف جیتنا ہی نہیں بلکہ اپنے دیرینہ غلبے کو برقرار رکھنا بھی ہے کیونکہ ایسے مقابلوں میں پہلی گیند پھینکے جانے سے قبل ہی دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا کا فاتحانہ آغاز، ترکی کو ۲؍گول سے مات دی
ہرمن پریت کور ایک ایسی ہندوستانی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو توازن اور گہرائی کے باعث اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ اسمرتی مندھانا اور شیفالی ورما پر مشتمل ٹاپ آرڈر جارحانہ آغاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ جمائمہ روڈریگز اور رچا گھوش مڈل اور ڈیتھ اوورز میں استحکام اور بہترین فنشنگ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ٹیم انڈیا کی اصل طاقت اس کے اسپن اٹیک سمجھی جا رہی ہے، جہاں دیپتی شرما، رادھا یادو اور شری چرنی کی سہ رکنی اسپن جوڑی میچ کی رفتار کو قابو کرنے اور مڈل اوورز میں رنوں کی رفتار محدود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان ماضی کے ریکارڈ کے بوجھ کے ساتھ میدان میں اترے گی، لیکن اس پر توقعات کا زیادہ دباؤ نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ سے قبل اس کی تیاری اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، تاہم کپتان فاطمہ ثنا ٹیم کی اہم ترین کھلاڑی ہیں جو مؤثر بیٹنگ کے ساتھ ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ منیبہ علی سے ٹاپ آرڈر کو سنبھالنے کی امید کی جا رہی ہے جبکہ دیگر بلے بازوں پر ہندوستان کے منظم بولنگ اٹیک کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔
پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج اسپن گیند بازی کے خلاف شراکت داری قائم کرنااور اچھی شروعات کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنا ہوگا۔ سعدیہ اقبال اور نشرہ سندھو پاکستانی بولنگ اٹیک کی قیادت کرتی ہیں جو رفتار کے بجائے لائن و لینتھ اور کنٹرول پر انحصار کرتا ہے۔ ہندوستان کی مضبوط بیٹنگ لائن کو روکنے کے لئے ان دونوں کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: انگلینڈ نے لنکا کو ۸۷؍ رنوں سے ہرایا، ڈینیل ویاٹ کی سنچری
پچ کے حوالے سے توقع ہے کہ ایجبسٹن کی وکٹ ایک متوازن مقابلہ فراہم کرے گی۔ اس میدان پرحالیہ خواتین ٹی۔۲۰؍بین الاقوامی میچوں میں پہلی اننگز کا اوسط اسکور۱۵۰؍ سے ۱۶۵؍ رنوں کے درمیان رہا ہے۔ اگرچہ حالات نسبتاً مستحکم رہنے کی توقع ہے، تاہم حالیہ مقابلوں میں دوسری اننگز میں بلے بازی کرنے والی ٹیموں کو کچھ کامیابی ملی ہے، جس سے ٹاس کا فیصلہ بھی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم بن گیا ہے۔
ہماری توجہ ٹورنامنٹ جیتنے پر ہے
ہندوستانی خاتون بلے باز جمائمہ روڈریگز نے کہا ہے کہ اگرچہ ویمنز ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف افتتاحی میچ ہمیشہ خاص اہمیت رکھتا ہے، لیکن ٹیم کی اصل توجہ ٹورنامنٹ جیتنے اور ٹرافی اپنے نام کرنے پر مرکوز ہے۔ پاکستان کے خلاف میچ سے قبل جمائمہ نے کہا’’ہماری سب سے بڑی خواہش ٹرافی اٹھانا ہے۔ آج صبح بھی ہم نے بطور ٹیم اس لمحے کا تصور کیا۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر آپ کسی مقصد کو بار بار اپنے ذہن میں دیکھیں تو آپ اسی سمت آگے بڑھتے ہیں۔‘‘