حوثیوں کے حملوں کے سبب کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا گیاتھا۔شام نے سعودی عرب فوج بھیجنے کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 2:57 PM IST | Agency | Riyadh
حوثیوں کے حملوں کے سبب کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا گیاتھا۔شام نے سعودی عرب فوج بھیجنے کا اعلان کیا۔
سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے حملوں میں۳؍ افراد کی ہلاکت اور متعددافراد زخمی ہونے کے بعد ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دوبارہ کھول دیا ہے۔سعودی عرب کی جنرل اتھاریٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو کئے گئے حملوں میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور قومی فضائی کمپنی سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔گاکا کے مطابق حملوں میں معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئیں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ لیکن ہوائی اڈے پر آپریشن دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔
سعودی ایئرلائنز نے بتایا کہ حملے میں اس کا ایک پائلٹ ہلاک ہوگیاجبکہ ایک طیارے کو نقصان پہنچا۔
قومی فضائی کمپنی نے ایک بیان میں کہا،’’سعودی ایئرلائنز کو کیپٹن حمود علی الکثامی کے انتقال پر رنج و غم ہے۔‘‘ کمپنی نے ان کی موت کا سبب ریاض ہوائی اڈے پر پیش آنے والا ایک واقعہ بتایا۔
واضح رہےکہ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد ہوائی اڈوں پر حملے کئے ہیں اور بظاہر ان کے بنیادی اہداف میں ہوائی اڈے شامل ہیں۔ حوثی باغی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے جاری فوجی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں جسے ریاض کی حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں اسٹارلنک: ایلون مسک کی مکیش امبانی پر تنقید تیز
گاکا نے بدھ کو بتایا تھا کہ ہفتے کے اوائل میں ابہا اور کنگ خالد ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں ۳؍ شہری ہلاک اور ۳۶؍زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یمن کی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے دیگر حملوں میں بھی کم از کم۳؍ افراد زخمی ہوئے تھے۔ حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے کنگ خالد ہوائی اڈے کی سمت بیلسٹک میزائل داغا جو اپنے ہدف پر کامیابی سے لگاجس سے نقصان ہوا اور فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔
یہ مہم گزشتہ ماہ اختیار کی گئی حکمت عملی کی بحالی معلوم ہوتی ہے۔۱۸؍ ستمبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے کنگ خالد ہوائی اڈے کی جانب داغے گئے ایک مشتبہ حوثی بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کردیا ہے۔اس کے ایک روز بعد ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب کم از کم ایک دھماکے کی آواز سنی گئی تھی اور ایندھن ذخیرہ کرنے کے ایک مقام سے سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دیئے تھے۔اسی دوران شام نے اپنی فوج سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا۔