Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ چارلس سوم نے ایپسٹین متاثرین سے ملاقات کی اپیل مسترد کردی: رو کھنہ

Updated: April 30, 2026, 9:03 PM IST | Washington

امریکی رکنِ کانگریس رو کھنہ نے ایپسٹین کیس کے متاثرین اور ورجینیا جیوفری کے اہلِ خانہ کے ساتھ گول میز اجلاس منعقد کیا، جبکہ انہوں نے برطانوی شاہ چارلس سوم سے متاثرین سے ملاقات کی درخواست بھی کی جو مسترد ہو گئی۔

King Charles met with Trump during his visit to the US. Photo: X
شاہ چارلس نے امریکی دورے پر ٹرمپ سے ملاقات کی۔تصویر: ایکس

بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین سے جڑے تنازعات ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ گزشتہ دن امریکی ڈیموکریٹک قانون ساز رو کھنہ نے متاثرین اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ایک اہم گول میز اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم ایک سرکاری دورے پر تھے، جس نے اس معاملے کو مزید نمایاں کر دیا۔ یہ پیش رفت ایپسٹین کیس میں شفافیت کے مطالبات کے دوبارہ زور پکڑنے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ رو کھنہ، جو ’’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘‘ کے شریک مصنف ہیں، نے اس اجلاس کے ذریعے متاثرین کی آواز کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور بین الاقوامی سطح پر جوابدہی کا مطالبہ دہرایا۔

یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کمیشن پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی تنقید،’’مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کیوں؟‘‘

گول میز میں خاص طور پر ورجینیا جیوفری کے کیس کو زیر بحث لایا گیا، جنہوں نے ماضی میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں کم عمری میں جیفری کے نیٹ ورک کے ذریعے برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس اینڈریو تک پہنچایا گیا۔ ورجینیا کے پہلے دیے گئے بیان کے مطابق، ’’مجھے ۱۷؍ سال کی عمر میں اسمگل کر کے پرنس اینڈریو کے پاس بھیجا گیا۔‘‘ دوسری جانب، پرنس اینڈریو نے ان الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’مجھے ان سے ملاقات کی کوئی بات یاد نہیں ہے۔‘‘
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ۲۰۲۲ء میں پرنس اینڈریو اور ورجینیا کے درمیان عدالت سے باہر تصفیہ طے پایا تھا، جس میں شہزادہ اینڈریو نے کسی بھی غلط کام کا اعتراف نہیں کیا۔ حالیہ پیش رفت میں رو کھنہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شاہ چارلس سوم کو باضابطہ درخواست بھیجی تھی کہ وہ ایپسٹین کیس کے متاثرین سے ملاقات کریں۔ تاہم، یہ درخواست قبول نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے بادشاہ چارلس سے درخواست کی تھی کہ وہ متاثرین سے ملاقات کریں تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے، لیکن اس کی منظوری نہیں دی گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: قسط ادا نہ کرنے پر ریکوری ایجنٹوں کے ہاتھوں صارف کی پٹائی

یہ واضح نہیں ہے کہ ملاقات سے انکار کی وجوہات کیا تھیں، تاہم سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان اس حساس معاملے سے فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب پرنس اینڈریو پہلے ہی اس تنازع کا حصہ رہ چکے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی قانون سازوں کی جانب سے ایپسٹین کیس سے متعلق مزید دستاویزات منظر عام پر لانے کے مطالبات تیز ہو رہے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کیس سے متعلق مزید انکشافات ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK