• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ذات پات کا امتیاز ایسا داغ جسے قوانین نہیں، انفرادی رویے ہی مٹا سکتے ہیں: ہوسبلے

Updated: September 21, 2026, 4:07 PM IST | New Delhi

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور چھوت چھات کے خاتمے کیلئےسماجی رویوں میں تبدیلی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیدائش کی بنیاد پر تفریق ہندو ثقافت کا حصہ نہیں اور اس کے خاتمے کا آغاز فرد اور اس کے گھر سے ہونا چاہئے۔

RSS leaderDattatreya Hosabale. Photo: INN
آر ایس ایس لیڈر دتاتریہ ہوسبلے۔ تصویر: آئی این این

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے اتوار کو ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور چھوت چھات کے خاتمے کیلئے سماجی رویوں میں تبدیلی پر زور دیا اور ان رواجوں کو ہندو معاشرے کیلئے ایک ’’داغ‘‘ قرار دیا۔ بھوپال کے لال پریڈ گراؤنڈ میں آر ایس ایس کے رضاکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہوسبلے نے کہا کہ صرف قوانین بنانے اور وعظ و نصیحت سے ذات پات پر مبنی امتیاز کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تبدیلی کا آغاز فرد کی سطح سے ہونا چاہئے اور لوگوں کو روزمرہ زندگی میں امتیازی رویے ترک کرنا ہوں گے۔ ہوسبلے نے کہا کہ کسی شخص کی پیدائش کی بنیاد پر امتیاز کی ہندو ثقافت میں کوئی جگہ نہیں ہے اور سماجی تفریق کی ہر شکل کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ آسمانی، سلطانی بحران کے شکارکسانوں کو امداد دی جائے اور مکمل قرض معاف کیا جائے‘‘

ہوسبلے نے کہا، ’’انسانوں کے درمیان کسی بھی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ پیدائش کی بنیاد پر امتیاز ہندو ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’ذات پات کے نام پر کسی بھی قسم کی بدسلوکی معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تبدیلی کا آغاز اپنے طرزِ عمل اور اپنے گھروں سے کریں۔ آر ایس ایس لیڈر نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ ملک کی ترقی کا مقصد بالآخر انسانیت کی خدمت ہونا چاہئے، نہ کہ دوسرے ممالک پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش۔ انہوں نے کہا، ’’ ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان ابھر رہا ہے اور اسے ابھرنا چاہئے۔ ہندوستان کے عروج سے انسانیت کو مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچنا چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: سائنسدانوں نے۲۷-۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کو ایک مضبوط ایل نینو اثر سے متنبہ کیا

آر ایس ایس لیڈر نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان کسی پر غلبہ حاصل کرنے یا کسی کا استحصال کرنے، تکبر کے ذریعے دنیا کو دبانے یا کسی کو کچلنے کیلئے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کیلئے ترقی کرے گا اور آگے بڑھے گا۔ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ہوسبلے نے کہا کہ محض عوامی فورمز پر قراردادیں منظور کرنے سے ماحولیات کا تحفظ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو اپنے گھروں، اسکولوں، کام کی جگہوں، بازاروں اور محلوں میں روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنا کر ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہوسبلے نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی ترقی دنیا کے سامنے یہ مثال پیش کرے کہ مادی خوشحالی اور روحانی مسرت کے حصول کو کس طرح متوازن انداز میں ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وائٹ ہاؤس کی وینڈیز کے پرانے انداز میں پیکنگ کا سہرا لینے کی کوشش

ہوسبلے کے یہ بیانات آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے اجین میں ’یوا دھرم سنسد‘ کے دوران تقریباً ۱۷۰۰؍نوجوان شرکا سے خطاب کے تین روز بعد سامنے آئے ہیں۔ بھاگوت نے ہر چیز کو ایک شخص کے قابو میں رکھنے کے تصور سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا: ’’سورج کی مثال لیجئے، آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اس پر یقین نہیں رکھتے تو یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن سورج پھر بھی طلوع اور غروب ہوگا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK