Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس کا ایبولا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایجاد کرنے کا دعویٰ

Updated: May 27, 2026, 6:02 PM IST | Moscow

روس کا دعویٰ ہے کہ اس کی ایبولا ویکسین بنڈی بگیو اسٹرین سے بچا سکتی ہے جس سےکانگو میں۲۰۴؍ اموات ہوئی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کی ایک خطرناک نئی قسم پھیل رہی ہے۔  نایاب بنڈی بگیو اسٹرین پر خدشات بڑھ رہے ہیں ، جس کے سبب ڈبلیو ایچ او نے عالمی صحت کی ایمرجنسی قرار دے دی ہے ، جبکہ کانگو اور یوگنڈا میں اموات بڑھ رہی ہیں ۔روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایبولا ویکسین بنڈی بگیو کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہے ۔یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صورتحال کو بین الاقوامی صحت کی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔ روسی سفارت خانے (جنوبی افریقہ) کے مطابق، روسی وزیر صحت میخائل موراشکو نے ویکسین کا اعلان کیا۔سفارت خانے کے بیان کے مطابق، روسی محققین نے ایبولا کے خلاف ویکسین تیار کی ہے۔ سفارت خانے نے مزید کہا کہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ ویکسین کانگو میں پھیلنے والی موجودہ اسٹرین کے خلاف بھی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عظیم تباہی قریب ہے،۲۰۶۴ء تک دنیا کی آبادی نصف ہوجائے گی : تحقیق

واضح رہے کہ  ایبولا کی بنڈی بگیو اسٹرین، جو ایک نایاب اور انتہائی خطرناک قسم ہے، اب ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو (DRC) اور پڑوسی ملک یوگنڈا میں وبا ئی طور پرپھیلا رہی ہے۔ گمالیا سینٹر کے سائنسی ڈائریکٹر الیگزینڈر گِنٹسبرگ کے مطابق، اس وائرس کی قسم اور ویکسین کی اسٹرین کے درمیان جینیاتی مماثلت تقریباً۶۰؍ سے ۷۰؍ فیصد ہے۔تاہم مئی کو ڈبلیو ایچ او نے باضابطہ طور پر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کی وبا کو بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دے دیا جو بین الاقوامی صحت کے قواعد کے تحت اس کی عالمی صحت الرٹ کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔مشرقی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اس وبا کا مرکز بن گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جہنم کی جھلک، برطانیہ اور فرانس میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹا

دریں اثناء کانگولی حکام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، اس بیماری سے اب تک۲۰۴؍ اموات ہو چکی ہیں اور کم از کم۸۶۷؍ مشتبہ معاملات درج ہوئے ہیں۔ یوگنڈا نے بھی معاملات کی تصدیق کی ہے، جن میں کم از کم ایک موت شامل ہے۔بعد ازاں ڈبلیو ایچ او کا خیال ہے کہ اصل پھیلاؤ سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ وائرس حکام کی جانب سے وبا کی نشاندہی کرنے سے پہلے کچھ عرصے تک بغیر پتہ لگے پھیل رہا تھا۔ یاد رہے کہ ایبولا ایک شدید وائرل ہیمرجک بخار ہے جو جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری اندرونی خون بہنے، اعضے کی ناکامی اور موت کا سبب بن سکتی ہے، وبا کے دوران اموات کی شرح اکثر انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔موجودہ صورتحال کو خاص طور پر تشویشناک بنانے والی چیز خود بنڈی بگیو اسٹرین ہے۔ تاہم ایبولا اسٹرین کے برعکس، فی الحال بنڈی بگیو ایبولا کے لیے خاص طور پر تیار کردہ یا منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK