روس نے یوکرینی ڈرون حملوں کی وجہ سے ریفائنری آپریشنز معطل ہونے کے بعد کئی خطوں میں ایندھن کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 4:08 PM IST | Moscow
روس نے یوکرینی ڈرون حملوں کی وجہ سے ریفائنری آپریشنز معطل ہونے کے بعد کئی خطوں میں ایندھن کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
روس نے یوکرینی ڈرون حملوں کی وجہ سے ریفائنری آپریشنز معطل ہونے کے بعد کئی خطوں میں ایندھن کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ صدر ولادیمیر پوتن نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کو ایندھن کی کچھ کمی کا سامنا ہے۔
علاقائی گورنر ایگور کوبزیف نے کہا کہ موٹر ایندھن کی کمی کی وجہ سے ہائی الرٹ کی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور روس نیفت گیس اسٹیشنوں پر خریداری کی حد ۵۰؍ لیٹر فی گاڑی ہے۔ انہوں نے روسی سوشل میڈیا میکس پر لکھا کہ گاڑی کے ٹینک کے علاوہ کسی دوسری شہ میں ایندھن کی فروخت ممنوع ہے۔ روسی آئل ریفائنریز پر حالیہ یوکرینی ڈرون حملوں کی وجہ سے کئی تنصیبات نے آپریشنز معطل کر دیے ہیں، جس کے باعث ماسکو کو گھریلو ایندھن کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً پابندیاں عائد کرنی پڑ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اٹلی: روم میں’’ ویسپا‘‘ اسکوٹر کی ۸۰؍ سالگرہ، ہزاروں سواروں نے سڑکوں پر پریڈ کی
یوکرین کے جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے روس کی ۱۶؍ بڑی آئل ریفائنریز اور ایندھن کے ٹرمینلز کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ریفائننگ کی ۳۰؍ فیصد سے زیادہ صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کو کریملن کی طرف سے شائع کردہ ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ملک ایندھن کی کچھ کمی کا شکار ہے۔ پوتن نے کہا کہ اس وقت ہم کچھ کمی دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ تشویشناک نہیں ہے۔ جزیرہ نما کریمیا کے حکام نے بھی اپنی لاجسٹکس اور تیل کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں کے نتیجے میں ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش پر ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے، پوتن نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے تنازع پر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد امریکی مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم ماسکو آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے:لکی علی نے فلموں سے قبل قالین صاف کیا اور ریفائنری میں بھی کام کیا تھا
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات جاری رکھنے اور تمام تفصیلات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دریں اثنا، علاقائی حکام نے بتایا کہ اتوار کو یوکرین کے جنوب مشرق اور شمال مشرق میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ علاقائی گورنر ایوان فیڈوروف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر ہونے والے حملوں میں دو افراد ہلاک اور۱۶؍ زخمی ہوئے۔ شمال مشرقی سرحدی علاقے خارکیف میں زیمیو شہر پر میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو بچوں سمیت آٹھ زخمی ہوئے۔