یورپ شدید گرمی کی تاریخی لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں ۲۱؍جون سے اب تک۱۳۰۰؍ سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور صحت و ٹرانسپورٹ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر نے یورپ کے متعدد ممالک کو متاثر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 5:05 PM IST | Paris
یورپ شدید گرمی کی تاریخی لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں ۲۱؍جون سے اب تک۱۳۰۰؍ سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور صحت و ٹرانسپورٹ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر نے یورپ کے متعدد ممالک کو متاثر کیا ہے۔
یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث۲۱؍ جون سے اب تک ۱۳۰۰؍سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ جرمنی میں سڑکیں اور ٹریفک لائٹس پگھل گئے۔ ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس متاثر ہوئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر نے یورپ کے متعدد ممالک کو متاثر کیا ہے۔ اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور ایمرجنسی سروسیز پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے اور امدادی کالز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: روم میں’’ ویسپا‘‘ اسکوٹر کی ۸۰؍ سالگرہ، ہزاروں سواروں نے سڑکوں پر پریڈ کی
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو اتنے شدید درجہ حرارت کو برداشت کرنےکیلئے تعمیر نہیں کیا گیا، جس کے باعث گرمی کے اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔ فرانس کے سرکاری ادارے پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق بدھ سے اب تک متوقع شرح کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ۲۴؍ جون کے بعد اموات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق۱۸؍ جون سے جاری گرمی کی لہر کے دوران دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہاتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد۷۴؍ تک پہنچ گئی ہے، کیونکہ شدید گرمی سے بچنے کیلئے بڑی تعداد میں لوگ پانی کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک میں گرمی کا قہر، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، نظام زندگی متاثر
دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق شدید درجہ حرارت سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ کئی مقامات پر ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی متاثر ہوئے، جس کے بعد ٹرام سروس کو پیر کی صبح تک معطل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین صحت نے بزرگ افراد، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔