• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس : مقامی قوانین کی عدم تعمیل کا حوالہ، وہاٹس ایپ کو مکمل بند کرنے کی دھمکی

Updated: November 29, 2025, 8:02 PM IST | Masco

روس نے مقامی قوانین کی عدم تعمیل کا حوالہ دیتے ہوئے وہاٹس ایپ کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ، گذشتہ اگست میں، روس نے میٹا پلیٹ فارم کے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر کچھ کال کو محدود کرنا شروع کیا تھا، ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کے منکر ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 روس نے مقامی قوانین کی عدم تعمیل کا حوالہ دیتے ہوئے وہاٹس ایپ کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ، گذشتہ اگست میں، روس نے میٹا پلیٹ فارم کے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر کچھ کال کو محدود کرنا شروع کیا تھا، ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے کے منکر ہیں۔روس کی ریاستی مواصلاتی نگران ادارے روزکومنادزور نے دھمکی دی ہے کہ اگر واٹس ایپ روسی قوانین کی پابندی نہیں کرتا تو اسے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گذشتہ اگست میں، روس نے میٹا پلیٹ فارمز کی ملکیت والے پیغام رساں ایپ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر کچھ کال کو محدود کرنا شروع کیا تھا، جس میں ان غیر ملکی پلیٹ فارمز پر الزام تھا کہ وہ دھوکہ دہی اور دہشت گردی کے مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بعد ازاں جمعے کو، روزکومنادزور نے ایک بار پھر واٹس ایپ پر الزام لگایا کہ وہ جرائم کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے روسی ضوابط پر پورا نہیں اتر رہا۔

یہ بھی پڑھئئے: پاکستان میں حالیہ آئینی ترامیم پر اقوام متحدہ کو تشویش

دریں اثناءانٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق، ادارے نے کہا،’’ اگر یہ میسجنگ سروس روسی قانون کی مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی، تو اسے مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا۔‘‘تاہم واٹس ایپ نے ماسکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ لاکھوں روسی شہریوں کو محفوظ مواصلات تک رسائی سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔روس کی حکومت ایک سرکاری سرپرستی والے حریف ایپ’’ میکس‘‘ کو فروغ دے رہی ہے، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اسے صارفین پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ روس کی سرکاری میڈیا نے ان الزامات کو جھٹلا دیا ہے اور انہیں جھوٹ قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK