اقوام متحدہ کی کمیٹی نے غلاموں کی تجارت میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کرنے والے ممالک پر افریقی نسل کے لوگوں کے لیے جامع تلافی کے اقدامات کی قانونی ذمہ داری عائد ہونے کی تشریح پیش کردی۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 1:02 PM IST | Geneva
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے غلاموں کی تجارت میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کرنے والے ممالک پر افریقی نسل کے لوگوں کے لیے جامع تلافی کے اقدامات کی قانونی ذمہ داری عائد ہونے کی تشریح پیش کردی۔
اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (CERD) نے کہا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے پار افریقی غلاموں کی تجارت سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ذمہ دار ممالک کو جامع تلافی کے اقدامات کرنا ہوں گے، چاہے ان کا کردار براہِ راست ہو یا بالواسطہ۔ کمیٹی نے کہا کہ ریاستوں کو افریقی نسل کے لوگوں کے لیے ایسے اقدامات نافذ کرنے چاہئیں جن میں مالی معاوضے کے ساتھ غیر مالی اور ساختی اصلاحات بھی شامل ہوں۔ کمیٹی کے مطابق تلافی کا انصاف صرف رقم کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ اس میں نقصانات کے مختلف پہلوؤں کا ازالہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ کی برف کی چادر لگاتار ۳۰؍ ویں سال سکڑ گئی
یہ دستاویز گزشتہ ہفتے منظور کی گئی تھی اور پیر کو جاری کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے کی نئی تشریح غلاموں کی تجارت سے جڑے نقصانات کے ازالے کے مطالبات کے لیے ایک اہم قانونی ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی مارچ میں منظور کی گئی تاریخی قرارداد کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کو ’’انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ ۱۹۳؍ رکنی اسمبلی میں قرارداد کے حق میں ۱۲۳؍ ووٹ آئے، ۳؍ ممالک نے مخالفت کی جبکہ ۵۲؍ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ارجنٹائنا، اسرائیل اور امریکہ نے مخالفت کی، جبکہ برطانیہ اور یورپی یونین کے تمام ۲۷؍ رکن ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقی یروشلم کے ۴۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی طلبہ پر اسرائیلی نصاب مسلط کرنیکا فیصلہ
جون میں گھانا میں افریقی اور کیریبین لیڈروں کی ایک کانفرنس میں غلاموں کی تجارت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک سے باضابطہ معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں ثقافتی املاک، انسانی باقیات اور تاریخی ریکارڈ اپنے اصل ممالک کو واپس کرنے کے ساتھ افریقی باشندوں اور افریقی نسل کے لوگوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔