درختوں سے گھرا جزیرہ تقریباً۲۳۰؍ فٹ چوڑا اور۴۶۰؍ فٹ لمبا تھا، یعنی اس کا رقبہ تقریباً۲؍ امریکی فٹ بال گراؤنڈز کے برابر بنتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 1:35 PM IST | Agency | Victoria
درختوں سے گھرا جزیرہ تقریباً۲۳۰؍ فٹ چوڑا اور۴۶۰؍ فٹ لمبا تھا، یعنی اس کا رقبہ تقریباً۲؍ امریکی فٹ بال گراؤنڈز کے برابر بنتا ہے۔
شمالی برٹش کولمبیا میں مقامی افراد اور محققین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک جزیرہ جو پراسرار طور پر نمودار ہوا تھا وہ چند ہفتوں کے اندر ہی غائب ہوگیا ہے۔’سی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ جزیرہ برٹش کولمبیا کی ولِسٹن جھیل میں کشتی سوار افراد کو نظر آیا تھا۔ درختوں سے ڈھکے اس وسیع و عریض جزیرے کا رقبہ ایک بڑے سے فٹ بال گراؤنڈ جتنا بتایا جارہا تھا۔ جو اچانک نمودار ہونے کے چند ہفتوں بعد پراسرار طور پر غائب ہو گیا، جس کے بعد مقامی افراد اور حکام اس کی حقیقت اور غائب ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غلاموں کی تجارت میں ملوث ممالک کو معاوضہ دینا ہوگا: اقوام متحدہ کی کمیٹی
یہ عجیب و غریب جزیرہ جولائی میں برٹش کولمبیا کے ولسٹن ریزروائر میں ایک مقامی کشتی بان نے دیکھا تھا، جس نے اس کی تصاویر بنائیں اور انہیں مقامی رہائشی راکی ایوری کے ساتھ شیئر کیا۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں، تاہم سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آخر اتنا بڑا جزیرہ وہاں آیا کہاں سے؟ بعد ازاں سیٹیلائٹ تصاویر نے بھی اس جزیرے کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ بی سی ہائیڈرو کے مطابق۲۱؍ جولائی کی سیٹیلائٹ تصاویر میں فنلے بے کے مغرب میں یہ غیر معمولی زمینی ٹکڑا دکھائی دیا۔ حکام کے مطابق جزیرہ تقریباً۲۳۰؍ فٹ چوڑا اور۴۶۰؍ فٹ لمبا تھا، یعنی اسکا رقبہ تقریباً ۲؍ امریکی فٹ بال گراؤنڈ کے برابر بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکی حملوں کا ایران نے سخت جواب دیا، حالات پھر کشیدہ
ماہرین کا قیاس یہ ہے....
اگست میں جب لوگوں نے دوبارہ اس مقام پر نظر ڈالی تو جزیرہ وہاں موجود نہیں تھا، جس کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید وہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ بی سی ہائیڈرو کے ترجمان کے مطابق ممکن ہے کہ یہ زمینی ٹکڑا بہہ کر سمندر کے کنارے یا کسی دوسرے نسبتاً محفوظ حصے میں پہنچ گیا ہو، جس کا مطلب ہے کہ جزیرہ اب بھی کہیں موجود ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ غیر معمولی طور پر بلند پانی کی سطح کے باعث یہ زمینی حصہ ساحل سے الگ ہو گیا ہو، اسکے بعد تیز ہواؤں نے اسے سمندر میں بہا دیا ہو۔