ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی)نے صارفین کی صحت اور غذائی معیار کے تحفظ کے لیے ملک کے دو معروف مسالہ برانڈز ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی کمپاؤنڈڈ یعنی مخلوط ہینگ پاؤڈر کی فروخت اور تقسیم پر پابندی عائد کردی ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی)نے صارفین کی صحت اور غذائی معیار کے تحفظ کے لیے ملک کے دو معروف مسالہ برانڈز ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی کمپاؤنڈڈ یعنی مخلوط ہینگ پاؤڈر کی فروخت اور تقسیم پر پابندی عائد کردی ہے۔
ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی)نے صارفین کی صحت اور غذائی معیار کے تحفظ کے لیے ملک کے دو معروف مسالہ برانڈز ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی کمپاؤنڈڈ یعنی مخلوط ہینگ پاؤڈر کی فروخت اور تقسیم پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ کارروائی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ء کے تحت کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق جانچ کے دوران دونوں کمپنیوں کے ہینگ مصنوعات مقررہ معیار پر پوری نہیں اتریں۔
ایف ایس ایس اے آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ایوریسٹ فوڈ پروڈکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور لال جی گودھو اینڈ کمپنی کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کی گئی ہے۔ تاہم اتھاریٹی نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف کمپاؤنڈڈ ہینگ مصنوعات تک محدود ہے۔ دونوں کمپنیوں کے دیگر مصالحہ جات، جیسے گرم مصالحہ، ایگ کری مسالہ یا چکن کری مصالحہ، پر اس کارروائی کا اطلاق نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے:میں ذاتی طور پر شادی کے بعد ماں بیٹی جیسا رشتہ چاہتی ہوں:میناکشی
اس معاملے کی ابتدا ایک صارف کی جانب سے ہینگ کے معیار کے بارے میں شکایت درج کرانے کے بعد ہوئی۔ شکایت موصول ہونے پر ایف ایس ایس اے آئی نے مارکیٹ میں دستیاب مختلف برانڈز کی ہینگ مصنوعات کی وسیع پیمانے پر جانچ شروع کی۔ ابتدائی لیباریٹری ٹیسٹ میں ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی کمپاؤنڈڈ ہینگ مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ اس کے بعد دونوں کمپنیوں کی ممبئی میں واقع مرکزی لائسنس یافتہ مینوفیکچرنگ یونٹس سے نمونے حاصل کرکے تفصیلی ٹیسٹ کیے گئے۔ اس کے علاوہ گجرات کے امروگاؤں میں ایورسٹ کی ایک اور مینوفیکچرنگ یونٹ سے بھی ریاستی فوڈ سیفٹی محکمہ کے تعاون سے نمونے لیے گئے۔ جانچ میں حاصل کیے گئے نمونوں میں معیار سے متعلق سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھئے:کانگریس سے قربت؟ روہت پوار پارٹی کور کمیٹی کی میٹنگ سے غائب
فوڈ سیفٹی کے ضوابط کے مطابق کمپاؤنڈڈ ہینگ تیار کرنے کے لیے خالص ہینگ کو گوند، اسٹارچ اور آٹے جیسے اجزا کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ تاہم اس میں کم از کم ۵؍ فیصد الکحل سولیوبل ایکسٹریکٹ ہونا ضروری ہے۔ اسے مصنوعات میں اصلی ہینگ کی موجودگی کا ایک اہم معیار سمجھا جاتا ہے۔ جانچ کے دوران ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی مصنوعات میں یہ مقدار صرف صفر سے۳؍ فیصد کے درمیان پائی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں اصلی ہینگ کا جزو مقررہ معیار سے کم تھا اور مصنوعات مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتر رہی تھیں۔ جانچ کے دوران لال جی گودھو اینڈ کمپنی کی یونٹ سے حاصل کی گئی خالص ہینگ کی چھ مختلف اقسام کے نمونے بھی ٹیسٹ کیے گئے۔ قواعد کے مطابق خالص ہینگ میں اسٹارچ کی مقدار ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔ لیکن لیباریٹری ٹیسٹ میں ان نمونوں میں اسٹارچ کی مقدار۱۵؍ فیصد سے ۳۲؍ فیصد تک پائی گئی، جو مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ نتائج مصنوعات کے معیار اور ممکنہ ملاوٹ سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ان بے ضابطگیوں کے پیش نظر ایف ایس ایس اے آئی نے ایوریسٹ اور لال جی گودھو کی کمپاؤنڈڈ ہینگ کی فروخت اور تقسیم پر ملک بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔