Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے پولیس کی ای بائیکس فورس متعارف

Updated: August 30, 2026, 8:05 PM IST | London

لندن میں اسٹریٹ کرائمز اور موبائل فون چھیننے کی بڑھتی وارداتوں پر قابو پانےکیلئے پولیس نے ہائی پاورڈ ای بائیکس پر مشتمل خصوصی فورس قائم کردی ہے۔ پولیس کے مطابق تیز رفتار ای بائیکس سے ملزمان کا سڑکوں کے ساتھ ساتھ تنگ گلیوں اور سیڑھیوں تک تعاقب ممکن ہوگا، تاہم مقدمات میں مثبت نتائج کی شرح اب بھی ایک فیصد سے کم ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ میں اسٹریٹ کرائمز اور موبائل فون چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام کیلیے پولیس نے اہم فیصلہ کرلیا، ای بائیکس فورس قائم کردی گئی۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں موبائل فون چھیننے سمیت سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کیلئے میٹرو پولیٹن پولیس نے ای بائیکس فورس متعارف کرا دی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جرائم کی وارداتوں کے بڑھنے پر برطانوی شہری بھی پریشان ہیں، لندن میں ہر چار منٹ بعد چوری یا پھر موبائل فون چھیننے کی واردات رپورٹس ہو رہی ہیں۔ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے اسٹریٹ کرائمز بالخصوص موبائل فون چھیننے والے جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے کے لیے ہائی پاورڈ الیکٹرک بائیکس (ای بائیکس ) کے خصوصی اسکواڈ میں بڑا اضافہ کیا ہے۔ پولیس حکام نے اس فورس کی توسیع کو اسٹریٹ کرائم کے خلاف ایک بڑا ہتھیار قرار دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: طالبان، کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا خواہاں

پولیس کے مطابق پہلے مرحلے میں اسکواڈ میں ۲۰؍ ای بائیکس شامل کی گئی ہیں جوتقریباً۸۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ تک رفتار سے چل سکتی ہیں۔ ان بائیکس کی خاص بات یہ ہے کہ پولیس اہلکار مشتبہ ملزمان کا سڑکوں سے ہٹ کر بھی تعاقب کرسکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سیڑھیوں تک پر ان کا پیچھا کیا جاسکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نئی ای بائیکس بالخصوص موبائل فون چھیننے کی وارداتوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی تک کے۱۲؍ ماہ کے دوران لندن میں موبائل فون چوری کے واقعات تقریباً۶۸؍ہزار سے کم ہوکر۵۴؍ ہزار رہ گئے۔ ایک گشت کے دوران میٹ پولیس کے افسر نے ای بائیکس اور ڈرونز کے استعمال کو جرائم کے خلاف کارروائی میں مؤثر قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افراد بھی پولیس کی گشت کے اوقات میں تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران خلیج میں ۴۰۰؍ جہاز پھنسے ہیں: یو این

تاہم پولیس کی کارروائیوں کے باوجود ایسے مقدمات میں ’مثبت نتائج‘ ایک فیصد سے بھی کم ہیں، میٹ پولیس کے مطابق مثبت نتیجے سے مراد ایسا معاملہ ہے جس میں ملزم کو وارننگ، فردِ جرم یا کسی اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ لندن کی ڈپٹی میئر برائے پولیسنگ و کرائم کایا کومر شوارٹز نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ موبائل فون چوری جیسے جرائم سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر فوجداری نظام انصاف میں بہتری اور متاثرین کی معاونت بھی ضروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK