Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں ۳؍ دنوں میں جولائی کی ۷۴؍ فیصد بارش، آج بھی ریڈ الرٹ

Updated: July 05, 2026, 3:00 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

جھیلوں پر اوسط بارش، متعدد مقامات پرتقریباً۳۰۰؍ ملی میٹر برسات، سڑکوں پر پانی بھرنے سے راستے بند کئے گئے، بی ایم سی کا شہریوں  کو بغیر ضرورت گھر سے نہ نکلنے کا مشورہ۔

Rainwater collects in an area of ​​Mumbai where people are passing. Photo: PTI
ممبئی کے ایک علاقےمیں  بارش کا پانی جمع ہےجہاں سے لوگ گزررہے ہیں۔ تصویر:پی ٹی آئی

اس سال تاخیر سے شروع ہونے اور جون میں کم بارش کے بعد جولائی کی ابتداء سے شہر و مضافات اور اطراف کے علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور سنیچر تک گزشتہ تین دنوں میں جولائی مہینے کی تقریباً۷۴؍ فیصدبارش ہوچکی تھی۔ شدید بارش کے سبب سڑکوں پر پانی بھرنے اور چھوٹے بڑے حادثات کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے کئی مقامات پر معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی بی ایم سی نے عوام کو بغیر ضرورت گھر سے باہرنہ نکلنے اورخصوصاً ساحل سمندر پر پانی میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ 
جولائی کی ۷۴؍فیصد بارش
عام طور پر ممبئی میں جولائی میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس پورے مہینے میں اوسطاً سانتا کروز کی مشاہدہ گاہ پر ۹۱۹ء۹؍ ملی میٹر جبکہ قلابہ میں ۷۶۸ء۵؍ ایم ایم تک بارش ریکارڈ کی جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق اس مہینے یکم جولائی سے ۴؍ جولائی کی صبح ۸؍ بجے تک سانتا کروز میں ۵۱۲؍ ایم ایم جبکہ قلابہ میں ۴۳۰؍ ایم ایم بارش ہوچکی تھی۔ اس کے بعد سنیچر کو دن بھر تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے رات ۹؍بجے تک جولائی کی تقریباً۷۴؍فیصد بارش ہوچکی تھی۔ البتہ گزشتہ ماہ سانتا کروز میں جون مہینے کی اوسط بارش سے ۲۲؍ فیصد کم اور قلابہ میں ۱۸؍ فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: موسلادھار بارش سے بھیونڈی اور کلیان کے نشیبی علاقے زیر آب، گھروں میں پانی داخل

جھیلوں کا حال
تیز و تند بارش کا جو سلسلہ شہری علاقوں میں جاری ہے اس کے مقابلے جھیلوں پر اب بھی کم بارش ہورہی ہے اور سنیچر کی صبح ۶؍ بجے تک ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں مجموعی طور پر صرف ۹ء۴۱؍ فیصد پانی ذخیرہ ہوسکا تھا۔ 
گزشتہ برس ۴؍ جولائی کو ان تمام جھیلوں میں مجموعی طور پر ۵۰ء۷۵؍ فیصد جبکہ ۲۰۲۴ء میں محض  ۸ء۵۹؍ فیصد پانی ذخیرہ تھا۔ اس جولائی میں بارش کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں ایک بھی دن ۲۴؍ گھنٹوں میں کسی بھی بڑی جھیل پر ۱۰۰؍ ملی میٹر بارش ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔ صرف ۲؍ چھوٹی جھیلوں تُلسی اور ویہار لیک پر تقریباً روزانہ ۱۰۰؍ ملی میٹر سے زیادہ بارش ہورہی ہے۔ 
سڑکیں بند کی گئیں 
لگاتار بارش کے دوران سمندر میں طغیانی کے سبب دوپہر کے وقت کئی علاقوں میں پانی بھر گیا تھا جس کی وجہ سے متعدد سڑکوں کو بند کرکے گاڑیوں کو متبادل سڑکوں سے گزارا گیا۔ سنیچر کو اندھیری سب وے کے قریب واقع موگرا نالہ بھر کر بہنے لگا تھا جس کی وجہ سے اس کے اطراف اور شہر و مضافات کے دیگر کئی علاقوں کی سڑکیں پانی میں ڈوب گئی تھیں۔ بی ایم سی کے مطابق جن سڑکوں کو بند کیا گیا تھا ان میں چمبور میں واقع نورِ الٰہی سیوا روڈ، اندھیری میں ویرا دیسائی روڈ، مہانگر پالیکا بازار پیٹھ روڈ، اندھیری میں سوامی وویکا نند مارگ، اندھیری سب وے، وکھرولی میں ہما مال جنکشن، گاندھی نگر جنکشن، پریش پارک، ڈان باسکو سے ہولی کراس روڈ کے درمیان پریمیر روڈ، جوگیشوری میں ایس وی روڈ (اجیت گلاس کے پاس)، آرے کالونی یونٹ نمبر ۲۵، سائی ناتھ سب وے، ودیا ویہار ایس ٹی ڈپو اور دیگر راستے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سمندر کے نمکین پانی کو استعمال کے قابل بنانے والا پروجیکٹ ۴؍ سال میں مکمل ہوگا

کہاں کتنی بارش؟
سنیچر کی صبح ساڑھے ۸؍ بجے تک گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں سانتا کروز میں ۱۰۹ء۶؍ ملی میٹر، قلابہ میں ۹۰ء۲؍ ایم ایم اور تھانے میں ۷۴؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ سنیچر کو ہی صبح ساڑھے ۸؍ بجے سے شام ساڑھے ۵؍ بجے تک سانتا کروز مشاہدہ گاہ پر ۱۶۴ء۱، قلابہ میں ۷۰ء۲؍ ایم ایم اور تھانے میں ۱۱۷ء۴؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی۔ 
البتہ چھوٹے چھوٹے مختلف علاقوں میں بی ایم سی کے ذریعہ نصب کئے گئے ویدر گیج پر سنیچر کو صبح سے شام ۶؍ بجے تک مشرقی مضافات کے وکھرولی (مغرب) میں ۲۴۶ء۶، پوائی میں پاسپولی اسکول ۲۴۰، وکھرولی ٹیگور نگر میونسپل اسکول ۲۳۱ء۸، بھانڈوپ کمپلیکس ۲۲۲ء۸، وکھرولی فائر اسٹیشن ۲۲۰؍ ایم ایم۔ مغربی مضافات کے چنچولی فائر اسٹیشن پر ۲۲۰ء۸، پی این وارڈ آفس ۲۱۸ء۶، اندھیری فائر اسٹیشن ۲۰۸ء۸، جوگیشوری ایچ بی ٹی میونسپل اسکول ۲۰۷ء۴، کے ویسٹ وارڈ آفس ۲۰۶ء۲؍ ایم ایم اور شہر میں جی سائوتھ وارڈ آفس ۱۲۳ء۲، ایف نارتھ وارڈ آفس ۱۲۰ء۴، ایف سائوتھ وارڈ آفس ۱۱۶ء۲، ملبار ہل ۱۱۲ء۶؍ اور لوور پریل میں این ایم جوشی مارگ میونسپل اسکول پر ۱۱۱ء۲؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK