• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے وینٹی بال روم اور فاتحانہ محراب کے انہدام کے دن کا منتظر ہوں: سلمان رشدی

Updated: September 28, 2026, 7:07 PM IST | Washington

ملعون برطانوی نژاد امریکی مصنف سلمان رشدی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تعمیراتی منصوبوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دن کے منتظر ہیں جب ٹرمپ کا تعمیر کردہ وائٹ ہاؤس بال روم اور واشنگٹن میں مجوزہ عظیم الشان فاتحانہ محراب ختم کردی جائے گی۔

The accursed British-American author Salman Rushdie. Photo: X
ملعون برطانوی نژاد امریکی مصنف سلمان رشدی۔ تصویر: ایکس

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے ایڈیٹر ان چیف جیوڈی گریگ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سلمان رشدی نے ٹرمپ کے نئے وائٹ ہاؤس بال روم اور مجوزہ Triumphal Archکے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق رشدی نے کہا کہ وہ ایسے وقت کا انتظار کررہے ہیں جب ٹرمپ اقتدار میں نہیں ہوں گے اور ان کی جانب سے تعمیر کی گئی ان عمارتوں کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔رشدی نے ٹرمپ کے منصوبوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل میں وائٹ ہاؤس کا نیا بال روم اور واشنگٹن میں مجوزہ محراب بھی ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع کو ٹرمپ کی سیاسی میراث کے خاتمے کی علامت قرار دیتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
 وہائٹ ہاؤس کا نیا بال روم کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: ماریشس کا اسرائیلی پرواز کو لینڈنگ کی اجازت سے انکار، پرواز منسوخ

ٹرمپ انتظامیہ وہائٹ ہاؤس کےایسٹ ونگ کی جگہ ایک بڑے بال روم کی تعمیر کررہی ہے۔ اس منصوبے کے لیے ایسٹ ونگ کو منہدم کیا گیا اور اس کے بعد بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام شروع کیا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق منصوبہ اب تقریباً ۹۰؍ ہزار مربع فٹ کے کمپلیکس کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس میں تقریباً۲۲؍ ہزار مربع فٹ کا بال روم شامل ہے۔ منصوبے کی لاگت کے مختلف اندازے سامنے آئے ہیں، جبکہ حالیہ رپورٹس میں تقریباً ۶۰۰؍ ملین ڈالر تک کی لاگت کا ذکر کیا گیا ہے۔اس منصوبے کو قانونی اور تاریخی تحفظ کے حوالے سے بھی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ National Trust for Historic Preservation نے تعمیر روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد منصوبے پر کام جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوئی۔
علاوہ ازیں سلمان رشدی کی تنقید میں دوسرا اہم منصوبہ واشنگٹن ڈی سی میں مجوزہ ۲۵۰؍ فٹ بلند Triumphal Arch ہے۔ یہ محراب میموریل سرکل کے قریب، آرلنگٹن نیشنل سیمٹری اور لنکن میموریل کے علاقے میں تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔رپورٹوں کے مطابق یہ منصوبہ امریکی انقلاب کی ۲۵۰؍ویں سالگرہ کے حوالے سے ایک یادگار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ابتدائی ڈیزائن میں بلند محراب کے ساتھ سنہری آرائشی عناصر اور اوپر مجسماتی تفصیلات شامل ہیں۔ منصوبے کو تاریخی مقامات کے نظاروں، قانونی منظوری اور تعمیراتی طریقہ کار کے حوالے سے مخالفت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی ناپسندیدگی کی شرح وسط مدتی انتخابات سے قبل پست ترین سطح پر: سروے

مزید برآں ۲۰؍ ستمبر۲۰۲۶ء کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مجوزہ محراب کو ایک ملٹری کامپلیکس کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس میں ڈرونز، اسنائپر یونٹس اور گولہ بارود رکھنے کی سہولت شامل ہوگی اور یہ تبدیلی قومی سلامتی کی ضرورت کے پیش نظر کی جارہی ہے۔اس اعلان کے بعد منصوبے پر بحث مزید بڑھ گئی ہے۔ بعض سابق فوجی اہلکاروں، تاریخی ورثے کے تحفظ کے حامیوں اور دیگر ناقدین نے محراب کے مقام، اس کے تاریخی نظاروں پر ممکنہ اثرات اور عسکری استعمال کے جواز پر سوالات اٹھائے ہیں۔ منصوبے کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ستمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے مجوزہ محراب کے تاریخی مقامات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے جاری مشاورتی عمل ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس عمل کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ۲۵۰؍ فٹ بلند محراب قریبی تاریخی مقامات پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انتظامیہ محراب کی تعمیر تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے، تاہم منصوبے کو ابھی بھی مختلف قانونی اور انتظامی مراحل سے گزرنا ہے۔
 سلمان رشدی کی ٹرمپ پر تنقید
واضح رہے کہ سلمان رشدی گزشتہ کئی برسوں سے امریکی سیاسی اور سماجی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تازہ انٹرویو میں ان کی گفتگو کا ایک اہم موضوع ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن میں بڑے تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے اپنی میراث قائم کرنے کی کوشش تھی۔رشدی نے خاص طور پر وہائٹ ہاؤس بال روم اور مجوزہ فاتحانہ محراب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں ان منصوبوں کے انہدام کا منظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ان کی ذاتی سیاسی رائے کے طور پر سامنے آیا ہے اور اسے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں کے بارے میں جاری وسیع تر عوامی اور سیاسی بحث کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ان منصوبوں کو واشنگٹن کی تعمیر نو، قومی ورثے اور مستقبل کی ضروریات سے جوڑتی رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس بال روم کے معاملے میں انتظامیہ نے تعمیر جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ مجوزہ محراب کو امریکی تاریخ اور۲۵۰؍ویں سالگرہ سے جوڑا گیا ہے۔ بعد ازاں محراب کے عسکری استعمال کے بارے میں ٹرمپ نے اسے قومی سلامتی سے بھی منسلک کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK