Updated: January 21, 2026, 5:13 PM IST
| Sambhal
سنبھل مظاہرے کے دوران مسلم شخص کو گولی مارنے کے معاملے میں پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دینے والے جج کا تبادلہ کردیا گیا ہے، چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ویبھانشو سدھیر کو منگل کو سلطان پور بطور سول جج (سینئر ڈویژن) منتقل کر دیا گیا۔ آدتیہ سنگھ، جو سنبھل کے قصبے چاندوسی کے سول جج (سینئر ڈویژن) تھے، ان کی جگہ لے لیں گے۔
دی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق اتر پردیش کے سنبھل کے ایک جج، جنہوں نے اس ماہ کے شروع میں۲۰۲۴ء میں ایک مسلمان شخص کی گولی باری کے سلسلے میں کئی پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیے تھے، منگل کو الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تبادلہ کیے گئے۱۴؍ افسران میں شامل تھے۔ سنبھل کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ویبھانشو سدھیر کو منگل کو سلطان پور بطور سول جج (سینئر ڈویژن) منتقل کر دیا گیا۔ آدتیہ سنگھ، جو سنبھل کے قصبے چاندوسی کے سول جج (سینئر ڈویژن) تھے، ان کی جگہ لے لیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: رشی کیش میں قرآن کی تعلیم پر ہندو گروپس نے اعتراض کیا؛ مولانا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا
سدھیر نے سابق سرکل آفیسر انوج چودھری، کوتوالی انچارج انوج تومر اور۱۵؍ سے ۲۰؍ نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر، درج کرنے کے احکامات دیے تھے۔ یہ معاملہ نومبر ۲۰۲۴ء میں قصبے کی تاریخی سنبھل شاہی مسجد، کے سروے کے خلاف احتجاج کے دوران ایک مسلمان شخص علم کے گولی لگنے اور زخمی ہونے سے متعلق تھا۔ سنبھل پولیس نے کہا تھا کہ وہ اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ کا رخ کریں گے۔واضح رہے کہ سنبھل میں تشدد، جس میں پانچ مسلمان افراد ہلاک ہوئے تھے، اس وقت پھوٹ پڑا تھا جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے چاندوسی قصبے میں شاہی جامع مسجد کے کورٹ کے حکم پر سروے کی مخالفت کی تھی۔اس سے قبل سدھیر نے عالم کے والدیامین کی درخواست کو منظور کیا تھا، جس میں انہوں نے پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ان کے بیٹے پر گولیاں چلائیں۔
یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر پرسپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
بعد ازاں یامین نے الزام لگایا تھا کہ۲۴؍ نومبر۲۰۲۴ء کو، ان کا بیٹاسنبھل میں جامع مسجد کے قریب اپنی گاڑی پر بسکٹ بیچ رہا تھا، جب پولیس اہلکاروں نے قتل کی نیت سے اچانک بھیڑ پر گولیاں چلا دیں۔سدھیر نے کہا تھا کہ اگرچہ یہ واضح تھا کہ عالم کو گولی لگی تھی، لیکن گولی چلانے والے کی شناخت کی جانچ پڑتال کی ضرورت تھی۔ جج نے تبصرہ کیا تھا کہ چونکہ قتل کی کوشش کا جرم ایک سنگین جرم ہے، اس لیے یہ امکان نہیں تھا کہ متاثرہ شخص اصل حملہ آور کو چھوڑ دے اور کسی اور پر جھوٹا الزام لگائے۔جج نے یہ بھی کہا تھا کہ مجرمانہ کارروائیوں کے لیے، پولیس یہ عذرپیش نہیں کر سکتی کہ وہ محض اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔