رکن اسمبلی ثنا ملک نےممبئی کے متعدد علاقوںمیں پانی کی قلت کا مسئلہ اتوار کو سرمائی اجلاس میں اٹھایا۔
EPAPER
Updated: December 15, 2025, 10:58 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
رکن اسمبلی ثنا ملک نےممبئی کے متعدد علاقوںمیں پانی کی قلت کا مسئلہ اتوار کو سرمائی اجلاس میں اٹھایا۔
رکن اسمبلی ثنا ملک نےممبئی کے متعدد علاقوںمیں پانی کی قلت کا مسئلہ اتوار کو سرمائی اجلاس میں اٹھایا۔ انہوںنے محکمہ آب رسانی سے سوال کیا کہ ممبئی کی جھوپڑپٹیوںمیں کے مکینوںکے پاس بلڈنگ والوں کی طرح ٹنکی نہیں ہوتی ہے، اس کے باوجود محکمہ ان سے پانی وافر مقدار میں ذخیرہ کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ثنا ملک نےپانی کٹوتی سے عوام اور عوامی نمائندوں کو مطلع نہ کرنے کی بھی شکایت کی جس پر کابینی وزیرشمبھو راج دیسائی نے یقین دلایاکہ بی ایم سی کو ہدایت دی جائے گی کہ آئندہ پانی کٹوتی کے تعلق سے متعلقہ اراکین اسمبلی کوبھی مطلع کرے۔ رکن اسمبلی ثناء ملک نے توجہ طلب نوٹس کے تحت ایوا ن اسمبلی کو بتایاکہ’’یکم دسمبر تا ۱۰؍ دسمبر کے درمیان ممبئی کے ۱۷؍ و ارڈوں میں پانی کی قلت رہی۔ محکمہ آب رسانی شہریوں کو پانی سپلائی کرنے کے بجائے انہیں پانی ذخیرہ کرنے کی درخواست کررہا تھا۔‘‘ انہوںنے حکومت سے سوال کیا کہ جھوپڑ پٹیوںمیں بلڈنگوں کی طرح پانی کی ٹنکی نہیں ہوتی تو پھر وہ شہری پانی کیسے ذخیرہ کر کے رکھ سکیں گے ۔ اس پانی کٹوتی کے تعلق سے مقامی رکن اسمبلی کوبھی مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی بتایا گیاکہ پانی سپلائی بند کرنے کے دوران کس طرح شہریوں کو پانی سپلائی کیا جائے گا۔ثناء ملک نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے اسمبلی حلقے میں ۶؍سال سے پانی سپلائی بہتر بنانے کیلئے ۶؍پروجیکٹ جاری ہیں ۔مَیں اس کا فالو اپ لے رہی ہوں لیکن کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ جب ان پروجیکٹوں کو مکمل نہیں کیاجائے گا تو پانی سپلائی میںبہتری کیسے ہوگی اور شہریوں کی پریشانی کیسے دور ہوگی؟‘‘انہوںنے مزید بتایاکہ ’’جن پروجیکٹوں میں محکمہ آب رسانی کے پروجیکٹ جاری ہے، ان میں بھارت نگر اور وشنو نگر کا زیر زمین پانی کا ٹینک شامل ہے۔ اس کےعلاوہ کاماواڑی میں پانی سپلائی کرنے کا جو وقت ہے، اس میں اضافہ کرنا وغیرہ ۔‘‘