• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بی جے پی دو منہ والی پارٹی ہے، اقتدار کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے‘‘

Updated: January 08, 2026, 10:07 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

شیوسینا لیڈر سنجے راؤت کی سخت تنقید ۔ بی جے پی پرامبرناتھ میں اپنی کٹر حریف کانگریس اور آکولہ ،میرا بھائندر میں ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کا الزام لگایا۔

Sanjay Raut has also accused the BJP of blackmailing him. Picture: INN
سنجے راؤت نے بی جے پی پر بلیک میلنگ کا الزام بھی لگایا ہے۔ تصویر: آئی این این
ادھو ٹھاکرے کی سربراہی والی شیوسیناکے رکن پارلیمان اور ترجمان سنجے راؤت  نے بدھ کو بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے اوراسے دو منہ والی پارٹی قرار دیا  ۔ انہوں نے الزام عائد کیاہےکہ بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے کیلئے کٹرحریف کانگریس اور ایم آئی ایم سے اتحاد کیا ہے۔ اس نے امبرناتھ میں کانگریس سے جبکہ آکولہ اور میرا بھائندر میں ایم آئی ایم سے اتحاد کیا ہے ۔ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے۔
  بدھ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ’’بی جے پی دومنہ والی پارٹی ہے۔ اس نے میرا بھائندر میں ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیا ہے جبکہ امبرناتھ میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ حالانکہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہہ چکے ہیںکہ وہ کانگریس سے پاک بھارت بنانا چاہتےہیں۔ ایک جانب بی جےپی  اعلیٰ کمان یہ  کہہ رہی ہے اور دوسری جانب امبرناتھ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کانگریس ہی سے اتحاد کر رہی ہے۔ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ بی جےپی نے آدھی کانگریس کو اپنی پارٹی میں ضم کر لیا ہے اور جو کانگریس بچی ہے، اس کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔‘‘  انہوںنے مزیدکہا کہ’’ ہم تواپنے آس پاس بھی ایم آئی ایم کو آنے نہیں دیتے اور یہ مہاراشٹر میں بی جے پی کا ایم آئی ایم سے اتحاد  پہلی مرتبہ دیکھا جارہا ہے اور یہ نیا پیٹرن ہے۔‘‘
شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’اقتدار حاصل کرنے کیلئے بی جےپی کوکسی بھی پارٹی سے اتحاد کرنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
سنجے راؤت نے ایک کہاوت کے ذریعے کہا کہ بی جے پی کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ جو پینے کودے، اس کی سیج پر یہ پہنچ جائے۔  انہوںنے مزید کہا کہ’’بی جے پی ویر ساورکر کے نظریات پر عمل کرنے والی پارٹی ہے لیکن این سی پی  کے سربراہ اجیت پوار ان کے نظریات کو نہیںمانتے ، اس کے باوجود انہوں نے ویر ساورکر کو نہ ماننے والے کو اپنے ساتھ اقتدار میں شامل کیا اور ویر ساورکر کے بارے میں ادھو ٹھاکرے اور شیو سینا (یوبی ٹی) کے دیگر لیڈروں پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ دہرا معیار نہیں تو ا ور کیا ہے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ ’’ اگر  بی جے پی کو ساور کر سے اتنا ہی پیار اور احترام ہے تو وہ اجیت پوار کو اقتدار سےکیوں بے دخل نہیں کرتے؟‘‘
سنجےراؤت کے میرا بھائندر میں بی جےپی کے ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کے تعلق سے جب مقامی سطح پر معلومات حاصل کی گئی تو پتہ چلاکہ وہاں پر جو ۲؍ پینل مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہے، وہاں   بی جے پی نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے ہیں لیکن حکومت میں اس کی اتحادی   این سی پی  (اجیت پوار) کے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے۔ ان پینلوں میں پینل نمبر۹؍ اور پینل نمبر ۲۲؍ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ میرا بھائندر میں ۴؍ وارڈوں پر مشتمل پینل سسٹم کے تحت میونسپل الیکشن منعقد ہو رہے ہیں۔
اجیت پوار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ بی جےپی نے بلیک میل کر کے ہی این سی پی اور شیو سینا کو تقسیم کیا ہے۔ اجیت پوار کو بلیک میل کر کے این سی پی تقسیم کروائی اور اسی طرح ایکناتھ شندے کو بلیک میل کر کے شیو سینا کو منقسم کیااور آج بھی اجیت پوار کو یہ کہہ کر بلیک میل کیا جارہا ہے کہ ان کے اوپر    ۷۰؍ ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کا فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔‘‘
سنجے راؤت نے وزیر اعلیٰ  اور وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ’’ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے اور وزیر اعلیٰ  اور وزیر داخلہ دیویندر فرنویس پورا وقت پارٹی کی انتخابی مہم میں صرف کر رہے ہیں۔ اسی طرح نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار بھی ریاست کا کام کاج چھوڑ کر انتخابی مہم میں مصروف  ہیں ۔ یہ درست نہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK