سعودی عرب نے ایویئن انفلوئنزا کے پھیلاؤ کے بعد ۴۰؍ممالک سے پولٹری اور انڈے کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
ہندوستانی انڈوں پر بھی پابندی ہوگی۔۔ تصویر:آئی این این
سعودی عرب نے ایویئن انفلوئنزا کے پھیلاؤ کے بعد ۴۰؍ممالک سے پولٹری اور انڈے کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ سعودی عرب نے ہندوستان اور افغانستان سمیت ۴۰؍ ممالک سے پولٹری اور انڈے کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق پابندی کا مقصد عوامی صحت کے تحفظ اور فود سیکورٹی کے معایر کو مضبوط بنانا ہے۔ سعودی عرب نے پولٹری اور انڈوں کی درآمد پر ۴۰؍ممالک بشمول ہندوستان، برطانیہ اور چین سے عارضی پابندی عائد کر دی۔
یہ فیصلہ انتہائی مہلک قسم کے ایویئن انفلوئنزا (ایچ پی اے آئی) کے پھیلاؤ کے بعد کیا گیا ہے۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی فہرست کے مطابق یہ پابندی وقتی نوعیت کی ہے اور کچھ ممالک اس فہرست میں ۲۰۰۴ءسے شامل ہیں، پابندی کا مقصد عوامی صحت کے تحفظ اور فود سیکورٹی کے معایر کو مضبوط بنانا ہے۔ ایچ پی اے آئی ایچ ۵؍این ۱؍ وائرس بنیادی طور پر جنگلی پرندوں اور پولٹری کو متاثر کرتا ہے لیکن حال ہی میں یہ ڈیری مویشیوں میں بھی پھیل چکا ہے۔ اگرچہ کچھ انسانی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن انسان سے انسان میں مسلسل منتقلی نہیں ہوئی۔ یہ وبا ۲۰۲۱ء میں شروع ہوئی اور اب ۵۰؍سے زائد ممالیہ جانوروں میں پھیل چکی ہے جس سے روایتی کنٹرول مشکل ہوگیا ہے۔
حکام اس بات کی نگرانی کر رہے ہیں کہ آیا وائرس انسانوں میں مطابقت اختیار کرتا ہے یا نہیں لیکن موجودہ خطرہ کم سمجھا جاتا ہے۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے واضح کیا کہ پابندی ایسے پولٹری گوشت اور مصنوعات پر لاگو نہیں ہوگی جو حرارت یا دیگر منظور شدہ طریقوں سے وائرس ختم کرنے کے قابل ہوں، ان مصنوعات کو صحت کے معیار، کنٹرول اور مقررہ اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور درآمد کرنے والے ملک کے مجاز حکام کی جانب سے صحت کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام، انڈونیشیا، چین، کمبوڈیا، لاؤس، ہانگ کانگ، قازقستان، منگولیا، آذربائیجان، بلغاریہ، ایران، سلووینیا، عراق، مصر، نائیجیریا، ہندوستان، نائیجر، بوسنیا و ہرزیگوینا، افغانستان، کیمرون، سوڈان، برکینا فاسو، سربیا، مونٹینیگرو، جبوتی، آئیوری کوسٹ، برطانیہ، بنگلہ دیش، میانمار، نیپال، جنوبی افریقہ، میکسیکو، شمالی کوریا، لیبیا، فلسطین، تائیوان، جرمنی، گھانا شامل ہیں۔
حکام اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس بیماری سے نپٹنے کیلئےفوری اقدام کئے جائیں اور انڈوں کی قلت سے ہونے والی دشواریوں کو دور کرنے کیلئے متبادل تلاش کیا جائے۔