امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےنیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک بیان میں اسے کاغذی شیر قرار دیا، ساتھ ہی کہا کہ نیٹو آبنائے ہرمز سے دور رہے،جس نے وقت پڑنے پر ساتھ نہیں دیا۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 6:09 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےنیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک بیان میں اسے کاغذی شیر قرار دیا، ساتھ ہی کہا کہ نیٹو آبنائے ہرمز سے دور رہے،جس نے وقت پڑنے پر ساتھ نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیٹو (NATO) پر حملہ کرتے ہوئے اسے ’’کاغذی شیر‘‘(Paper Tiger) قرار دیا اور اتحاد سے کہا کہ وہ ہرمز کی صورت حال سے دور رہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لگاتار پوسٹوں میں دعویٰ کیا کہ نیٹو نے مدد کی پیشکش کی تھی، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے لکھا، ’’میں نے انہیں دور رہنے کو کہا، جب تک کہ وہ اپنے جہاز تیل سے بھرنا نہ چاہیں۔ جب ضرورت پڑی تو وہ بیکار تھے، ایک کاغذی شیر!‘‘۔
یہ بھی پڑھئے: اگر امریکہ نے ناکہ بندی جاری رکھی تو ایران ہرمز کو بند کر دے گا: باقر قالیباف
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ عالمی خام تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش کے کسی بھی خطرے سے تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوتا ہے اور رسد کی قلت کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔اس سے قبل ایران کی جانب سے اس اہم ترین بحری جہازوں کے راستے کے مکمل طور پر کھلنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں۱۰؍ فیصد تک کمی آگئی تھی۔ دریں اثناءٹرمپ نے ایک وسیع تر معاہمے کا بھی دعویٰ کیا۔ انہوں نے لکھاکہ ’’اب ہرمز کبھی بھی دنیا کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا!
بعد ازاںٹرمپ کی پوسٹوں میں متعدد ممالک پر مشتمل ایک وسیع سفارتی فریم ورک کی طرف اشارہ کیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا ان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا شکریہ، آپ کی عظیم بہادری اور مدد کے لیے!‘‘اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران اس خطے سے سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو لبنان سمیت وسیع تر علاقائی مسائل سے جوڑا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ حزب اللہ کی صورت حال سے الگ سے نمٹے گا اور زور دے کر کہا کہ اسرائیل لبنان پر بمباری بند کر دے گا۔ انہوں نے لکھا، ’’انہیں ایسا کرنے سے امریکہ نے روک دیا ہے۔ بس ہو چکا!‘‘ جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو نشانہ بنانے والی بحری ناکہ بندی اس وقت تک مکمل طور پر نافذ رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ان کا معاملہ سو فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔