سعودی عربیہ کے شہر مکہّ مکرمہ میں قرآن مقدس میوزیم میںپندرہویں صدی کانسخہ نمائش کیلئے پیش کیا گیا، جو اسے فن خطاطی اور اسلامی ثقافتی ورثے کایگانہ روزگار نمونہ بناتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 7:04 PM IST | Riyadh
سعودی عربیہ کے شہر مکہّ مکرمہ میں قرآن مقدس میوزیم میںپندرہویں صدی کانسخہ نمائش کیلئے پیش کیا گیا، جو اسے فن خطاطی اور اسلامی ثقافتی ورثے کایگانہ روزگار نمونہ بناتا ہے۔
سعودی عرب کے مکہ المکرمہ، حرا ثقافتی ضلع میں واقع قرآن مقدس میوزیم نے اپنے زائرین کے لیے ایک تاریخی اور روحانی سفر کا دروازہ کھول دیا ہے، جہاں قرآن پاک کے پارہ۲۵؍ کا ایک نایاب قلمی نسخہ نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نسخہ پندرھویں صدی عیسوی (نویں صدی ہجری) کا ہے، جو اسے فن خطاطی اور اسلامی ثقافتی ورثے کایگانہ روزگار نمونہ بناتا ہے۔واضح رہے کہ یہ قلمی نسخہ ’’شامی نسخ‘‘ خط میں تحریر کیا گیا ہے، جو اپنی شاندار خطاطی، پیچیدہ اور نفیس تزئین و آرائش، اور دیدہ زیب آبکاری (گلڈنگ) کے باعث منفرد شناخت رکھتا ہے۔ صفحہ کے حاشیوں پر سونے کے پانی سے بنائے گئی بیل بوٹوں اور آرائش، اس دور کے ہنرمندوں کی مہارت اور قرآن مقدس کے لیے ان کی عظمت کے احساس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نسخے کی حالت اس کی حفاظت اور صدیوں سے اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کی داستان بیان کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسلام مخالف بیانات دینے پراسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ
یہ بیش قیمت نوادرات شاہ فیصل مرکز برائے تحقیق و اسلامی علوم کے تعاون سے نمائش میںپیش کیا گیا ہے۔ میوزیم کے ترجمان کے مطابق، یہ نمائش قرآنی خزانوں اور نایاب دستاویزات کو دنیا کے سامنے لانے کے ایک وسیع تر مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف زائرین کے ثقافتی و فکری تجربے کو گہرا کرنا ہے، بلکہ نئی نسل کو اسلامی فنونِ خطاطی اور تاریخ سے روشناس کرانا بھی ہے۔میوزیم میں داخل ہونے والے زائرین کے چہروں پر حیرت اور عقیدت کے جذبات صاف نظر آتے ہیں۔ ایک زائر نے بتایا، ’’صرف سوچ کر ہی روح پر رقت طاری ہو جاتی ہے کہ یہ وہی کلامِ الٰہی ہے جو صدیوں پہلے کسی ہنرمند نے انتہائی محبت اور احترام سے صفحہ قرطاس پر اتارا تھا۔ اسے دیکھنا ایمان میں اضافے کا باعث ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘ بے سہارا خاندانوں کے نوزائیدہ بچوں کی جانیں لے رہا ہے
قرآن مقدس میوزیم کا یہ قدم نہ صرف تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہے، بلکہ یہ مکہ المکرمہ کو ایک عالمی علمی و ثقافتی مرکز کے طور پر بھی مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میوزیم کا کہنا ہے کہ ایسی مزید نایاب تحریروں اور تاریخی اشیاء کو نمائش کے لیے لانے کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور سیاح اسلامی تہذیب کے گہوارے کی شاندار میراث سے براہِ راست روشناس ہو سکیں۔