Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری میں ہزار سالہ قرآنی مخطوطہ منظر عام پر

Updated: April 03, 2026, 3:59 PM IST | Riyadh

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے ’’غریب القرآن‘‘ کے عنوان سے ایک ہزار سال پرانا نایاب مخطوطہ منظر عام پر پیش کیا ہے، جسے معروف عالم ابو عبیدہ معمار بن المتحنہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ غیر مطبوعہ تصنیف قرآنی علوم میں ایک اہم اضافہ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ لائبریری میں اس نوعیت کے ۱۸۵؍ سے زائد نادر مخطوطات کا ذخیرہ موجود ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب میں قرآنی علوم کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے ایک ہزار سال پرانا نایاب مخطوطہ ’’غریب القرآن‘‘ عوام اور محققین کیلئے پیش کر دیا ہے۔ یہ مخطوطہ معروف عالم ابو عبیدہ معمار بن المتحنہ کی تصنیف بتایا جاتا ہے، جو ابتدائی اسلامی دور کے نمایاں علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مخطوطہ چوتھی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے اور مجموعی طور پر ۲۳؍ فولیو پر مشتمل ہے، جس کا سائز تقریباً ۱۷×۲۲ سینٹی میٹر ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ متن اندلسی طرز کے خط میں تحریر کیا گیا ہے، جبکہ سورتوں کے نام کوفی رسم الخط میں درج ہیں، جو اس دور کے خطاطی کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

ماہرین کے مطابق ’’غریب القرآن‘‘ ان الفاظ اور اصطلاحات کی وضاحت پر مبنی ہے جو قرآن مجید میں کم استعمال ہوتی ہیں یا جن کے معانی پیچیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح کی تصانیف قرآنی فہم کو گہرائی فراہم کرتی ہیں اور لسانی و تفسیری تحقیق کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ نسخہ اب تک غیر مطبوعہ رہا ہے، جس سے اس کی علمی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لائبریری حکام کے مطابق یہ مخطوطہ ان کے وسیع ذخیرے کا حصہ ہے، جس میں قرآنی علوم سے متعلق ۱۸۵؍ سے زائد نادر نسخے شامل ہیں۔ ان میں الزجاج کی تصنیف اعراب القرآن ومعانیہ، ابن قطیبہ کی تاویل مشکل القرآن، اور التبری کی مشہور تفسیر جامع البیان فی تفسیر القرآن کے حصے بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، اس ذخیرے میں البغاوی کی معالم التنزیل، احمد ابن عجیبہ کی تصانیف، اور دیگر کئی اہم مخطوطات بھی محفوظ ہیں، جو مختلف ادوار میں قرآنی تفسیر، قراءت، تجوید اور لسانی تجزیہ پر لکھی گئی ہیں۔

لائبریری کے ہیریٹیج آرکائیو میں موجود یہ مجموعہ چار بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے: تفسیر، قراءت و تجوید، عمومی قرآنی علوم، اور مصاحف۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی درجہ بندی نہ صرف تحقیق کو آسان بناتی ہے بلکہ مختلف علمی پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے تحت لائبریری کا مقصد ان نادر مخطوطات کو عوام اور محققین کے سامنے لا کر علمی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اسلامی علمی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ نئی نسل کے محققین کو بھی تاریخی مواد تک رسائی فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کا میزائل حملہ، بغداد میں امریکی انتباہ

خیال رہے کہ ریاض میں قائم یہ لائبریری خطے کی اہم علمی و ثقافتی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جہاں مخطوطات، نایاب دستاویزات، تصاویر اور تاریخی اشیاء کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف علمی تحقیق کو فروغ دیتا ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔’’غریب القرآن‘‘ جیسے نادر مخطوطے کی نمائش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلامی دنیا میں علمی ورثے کی حفاظت اور اس کی ترویج کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جو عالمی سطح پر تحقیق اور مطالعہ کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK