یوپی کے بہرائچ کے ایک ۸؍ سالہ الفاظ شیخ نے اپنا سکوں سے بھرا گلک نیپال کے سیلاب متاثریں کی امداد کیلئے وقف کردیا، یہ گلک لے کر وہ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر پہنچا اور درخواست کی کہ اس کا گلک (مٹی کا گُلک) سالم حالت میں نیپال بھیجا جائے۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 6:01 PM IST | Bahraich
یوپی کے بہرائچ کے ایک ۸؍ سالہ الفاظ شیخ نے اپنا سکوں سے بھرا گلک نیپال کے سیلاب متاثریں کی امداد کیلئے وقف کردیا، یہ گلک لے کر وہ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر پہنچا اور درخواست کی کہ اس کا گلک (مٹی کا گُلک) سالم حالت میں نیپال بھیجا جائے۔
جمعرات کو ایک آٹھ سالہ لڑکا بہرائچ کے ضلع مجسٹریٹ کے پاس ایک گلک لیے پہنچا جو ایک چھوٹا مٹی کا گُلک تھا، جسے اس نے گزشتہ ایک سال سے پیار سے سکوں اور نوٹوں سے بھر رکھا تھا۔الفاظ شیخ، جو تیسری جماعت کا طالب علم ہے، نے کہا کہ اسے ویسے ہی نیپال بھیج دیا جائے، تاکہ وہاں کے لوگوں کی مدد ہو سکے جن کی زندگیاں حالیہ اچانک سیلاب نے تباہ کر دی ہیں۔اب افسران اس بچے کی خواہش کو پورا کرنے کا طریقہ نکال رہے ہیں تاکہ اس کا تحفہ اپنے سکوں سمیت سالم طور پر منزل تک پہنچ سکے۔
UP boy donates piggy bank savings for Nepal flood victims https://t.co/EfaDcVtZ9e pic.twitter.com/svWKPzGEUN
— Arvind Chauhan (@Arv_Ind_Chauhan) September 4, 2026
بہرائچ، جو اتر پردیش کا ایک ضلع ہے اور نیپال کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، نے گندک ندی کے راستے نیپال سے ہندوستان میں ۱۴؍ نامعلوم لاشیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلاب کے متاثرین کی ہی بہتی ہوئی آئی ہیں۔پوسٹ مارٹم کرنے اور ڈی این اے کے نمونے محفوظ کرنے کے بعد، ضلع انتظامیہ نے لاشیں نیپالی حکام کے حوالے کر دیں۔لیکن اس رسمی تبادلے کے درمیان، ایک بچے کی چھوٹی سی مہربانی کا عمل بیوروکریسی کی بھنور میں پھنس گیا۔ذرائع کے مطابق، جب افسران نے لاشوں کے ساتھ الفاظ کا گلک بھی نیپالی حکام کو دینے کی کوشش کی، تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رقم براہ راست بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے۔اب افسران ایک متبادل راستہ تلاش کر رہے ہیں، نیپال کی سفارت خانے سے رابطہ کر کے درخواست کریں گے کہ الفاظ کا گلک، بالکل اسی طرح جیسے اس نے دیا تھا، بالآخر نیپال کے سیلاب زدہ لوگوں تک پہنچ جائے۔ایک افسر نے کہا، ’’ضلع مجسٹریٹ مہندر سنگھ تاور نے ہدایت دی ہے کہ گلک نیپالی سفارت خانے کو بھیجا جائے، تاکہ یہ دیگر امدادی اشیاء کے ساتھ نیپال پہنچ سکے۔ یہ ایک بچے کی اپنی جمع پونجی ہے۔ اس کی طرف سے یکجہتی کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ سالم حالت میں سفارت خانے تک پہنچے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مراد آباد: سرکٹ ہاؤس کے احاطہ میں نماز پڑھنے پر ایس پی کے لیڈر پر ایف آئی آر
واضح رہے کہ الفاظ، جو کشی نگر کے گاؤں بیٹیا کا رہائشی ہے، عمران صدیقی اور نصرت پروین کے چار بچوں میں تیسرا ہے۔ اس کے والد ریاض میں کام کرتے ہیں۔الفاظ کے دادا قاسم علی نے بتایا، ’’الفاظ نے گزشتہ ایک سال میں اپنے گلک میں جو بچت جمع کی تھی، وہ سیلاب کے متاثرین کو دینا چاہتا تھا۔ یہ سکے اور چھوٹے نوٹ تھے جو اسے وقتاً فوقتاً بڑوں سے ملے تھے ، ہمارا خیال ہے کہ اس میں تقریباً ۲۰۰۰؍ روپے ہوں گے۔ جب میں نے اس کے والد کو اس کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ اگر الفاظ یہ چاہتا ہے تو ہمیں اسے نیپال بھیجنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔‘‘ بعد ازاں خاندان نے پہلے مقامی لوگوں سے رابطہ کیا تاکہ پیسے نیپال بھیجنے کا بہترین طریقہ معلوم کریں، پھر فیصلہ کیا کہ سب سے آسان یہ ہوگا کہ گلک ضلع مجسٹریٹ کو دے دیا جائے۔الفاظ نے اپنا گلک ضلع مجسٹریٹ کو سونپا اور درخواست کی کہ اسے نیپال بھیجا جائے، کیونکہ یہ وہاں کے لوگوں کی مدد کے لیے اس کا اپنا چھوٹا ساحصہ ہے۔