Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: ’’شراب‘‘ پر سے پابندی ہٹانے کی خبریں، سعودی عرب کی تردید

Updated: May 27, 2025, 4:08 PM IST | Riyadh

سعودی عرب نے اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت میں شراب پر۷۳؍ سال سے عائد پابندی ختم کی جا رہی ہے۔ ایک سعودی اہلکار نے پیرکو واضح کیا کہ ایسی کوئی پالیسی تبدیل نہیں کی جا رہی۔

Mohammed bin Salman. Photo: INN.
محمد بن سلمان۔ تصویر: آئی این این۔

سعودی عرب نے اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت میں شراب پر۷۳؍ سال سے عائد پابندی ختم کی جا رہی ہے۔ ایک سعودی اہلکار نے پیرکو واضح کیا کہ ایسی کوئی پالیسی تبدیل نہیں کی جا رہی۔ یہ خبر سب سے پہلے ایک غیر معروف وائن بلاگ پر شائع ہوئی تھی اور بعد ازاں چند بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اسے اٹھایا۔ بلاگ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکومت۲۰۳۴ء کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاری کے سلسلے میں محدود پیمانے پر الکحل کی فروخت کی اجازت دینے جا رہی ہے، تاہم، اس رپورٹ میں کسی بھی معتبر ذریعہ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران- امریکہ نیوکلیائی مذاکرات میں ٹرمپ کا’’ عمدہ پیش رفت‘‘ کا دعویٰ

گزشتہ برس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک مخصوص اسٹور کھولا گیا تھا جہاں صرف غیر مسلم سفارتکاروں کیلئے شراب دستیاب ہے، جو اس حوالے سے ایک محدود اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب میں شراب صرف سفارتی ذرائع یا بلیک مارکیٹ کے ذریعے ہی دستیاب تھی۔ اس خبر نے سعودی عرب میں ایک بھرپور آن لائن بحث کو جنم دیا، خاص طور پر اس لئے کہ مملکت کو اسلامی دنیا میں ایک مقدس مقام حاصل ہے اور سعودی بادشاہ کو ”خادم الحرمین الشریفین“ کا اعزاز حاصل ہے۔ سعودی حکومت نے ملک میں شراب کی اجازت دینے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ سعودی حکومتی ذرائع کے مطابق۲۰۲۶ء سے شراب کے لائسنس جاری کرنے کے کسی بھی منصوبے کی خبریں قطعی طور پر حقائق کے منافی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۵۴؍ ہزار کا ہندسہ پار کرگئی

سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ مملکت کے ضوابط اور پالیسیوں کی بھی صحیح عکاسی نہیں کرتیں۔ سعودی عرب سیاحت کی ترقی کیلئے منفرد ثقافتی تجربے پر یقین رکھتا ہے جسے بین الاقوامی زائرین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ لوگ سعودی عرب کے تاریخی ورثے اور متنوع قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے مملکت کا رخ کرتے ہیں۔ 
ذرائع نے وضاحت کی کہ صرف غیر مسلم سفارتکاروں کیلئے مخصوص شراب کے ضوابط موجود ہیں، جن کے تحت نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد سفارتی کور کے غیر مجاز استعمال کو روکنا ہے۔ اس کے تحت اس طرح کے سامان تک مقامی کنٹرول کے تحت محدود اور ریگولیٹڈ رسائی ممکن ہے۔ مزید بتایا گیا کہ نئے اقدامات کے تحت غیر مسلم ممالک کے سفارت خانوں کو اب سفارتی کھیپوں میں شراب اور دیگر اشیاء درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس قسم کے سامان تک رسائی سخت ریگولیٹری ہدایات اور مقامی کنٹرول کے تحت دی جا رہی ہے تاکہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں شراب نوشی پر سخت قوانین نافذ ہیں جن کی خلاف ورزی پر جرمانہ، قید یا ملک بدری کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں درّے مارنے کی سزائیں بھی دی جاتی تھیں لیکن اب یہ سزا عموماً قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK