اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ۲۱۱۲۱؍ کروڑ روپے کا ریکارڈ خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۲۳ء۱۰؍ فیصد زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ۲۱۱۲۱؍ کروڑ روپے کا ریکارڈ خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۲۳ء۱۰؍ فیصد زیادہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ۲۱۱۲۱؍ کروڑ روپے کا ریکارڈ خالص منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۲۳ء۱۰؍ فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شبھ من گل زخمی، سری لنکا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں کے ایل راہل کپتان
بینک کے مطابق، اس سہ ماہی کے دوران سود سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی ۸۸ء۱۴؍ فیصد بڑھ کر ۴۶۹۹۲؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ آپریٹنگ منافع ۷۷ء۹؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۳۳۵۲۹؍ کروڑ روپے رہا۔ اس عرصے میں بینک کا مجموعی کاروبار ۱۱۰؍لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ بینک کے پاس صارفین کے ۶۰؍ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے ڈپازٹس موجود رہے جبکہ صارفین کو دیے گئے قرضوں کا حجم ۵۰؍لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا۔ قرضوں میں ۶۳ء۱۸؍ فیصد اور ڈپازٹس میں ۷۳ء۹؍ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سہ ماہی کے دوران بینک کے اثاثوں کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ مجموعی غیر فعال اثاثوں (گراس این پی اے) کا تناسب ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۳۶؍ بیسس پوائنٹس کم ہو کر۴۷ء۱؍ فیصد رہ گیا، جبکہ خالص این پی اے ۹؍بیسس پوائنٹس کم ہو کرو ۳۸ء۰؍ فیصد پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھئے:اگر ’’رامائن‘‘ کو آسکر نہ ملا تو مجھے مایوسی ہوگی: دیویندر فرنویس
بینک کی سہ ماہی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے کہاکہ’’ایس بی آئی میں ہماری حکمت عملی ہمیشہ ایک سادہ فلسفے سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے ۔ڈجیٹل فرسٹ، کسٹمر فرسٹ اور نیشن آلویز ۔ ٹیکنالوجی ہمارے رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ اپنے پیش گوئی پر مبنی اسٹریس مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے ذریعے ہم اندرونی اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر قرض لینے والوں کے کھاتوں میں مالی دباؤ کی ابتدائی علامات کی بروقت نشاندہی کر رہے ہیں۔ ایس بی آئی صرف اگلی سہ ماہی نہیں بلکہ آئندہ ایک دہائی کے لیے بھی اپنی بنیادیں مضبوط کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پورے ایس بی آئی گروپ کے لیے ایک اہم کامیابی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بینک کی ذیلی کمپنیاں تمام متعلقہ فریقوں کے لیے مسلسل قدر (ویلیو) پیدا کر رہی ہیں۔