Inquilab Logo Happiest Places to Work

مفت یونیفارم پر سمرگ شکشا ابھیان کا لوگولازمی قرار دینے سے اسکول انتظامی کمیٹیاں پریشان

Updated: June 02, 2026, 12:03 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

عنقریب نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز ہونے کو ہے، ایسے میں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے سمرگ شکشا ابھیان کے تحت طلبہ کو د یئے جانے والے مفت یونیفارم پر سمرگ شکشا ابھیان کا لوگو لگانے کو لازمی قرار دیا ہے۔

School Students.Photo:INN
اسکول کے طلبہ۔ تصویر:آئی این این
عنقریب نئے تعلیمی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کا آغاز ہونے کو ہے، ایسے میں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے سمرگ شکشا ابھیان کے تحت طلبہ کو د یئے جانے والے مفت یونیفارم پر سمرگ شکشا ابھیان کا لوگو لگانے کو لازمی قرار دیا ہے جبکہ یونیفارم کی تیاری کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے ۔اس فرمان کی وجہ سے امسال بھی طلبہ کو اسکول کے پہلے دن یونیفارم ملنے کی اُمید کم دکھائی دے رہی ہے۔ اس فیصلے نے اسکول کی انتظامی کمیٹیوں کیلئے پریشانی پیدا کردی ہے جب اسکول شروع ہونے میں صرف ۱۵؍ دن رہ گئے ہیں ۔ 
 
 
 
واضح رہےکہ مرکزی حکومت کے سمرگ شکشا ابھیان کے تحت، سرکاری اور مقامی سرکاری اسکولوں میں کلاس اوّل سے کلاس ۸؍ویں تک کے تمام لڑکیوں، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے زمرے کے بچوں اور خط افلاس سے نیچے کے والدین کے بچوں کو مفت یونیفارم فراہم کئے جاتے ہیں ۔ ریاستی حکومت نے ۲۹؍ مئی کو تعلیمی سال۲۷۔۲۰۲۶ء سے مفت یونیفارم اسکیم میں کچھ ترامیم کے بارے میں حکومتی فیصلہ جاری کیا ہے۔ اسی مناسبت سے طلبہ کو فراہم کئےجانے والے مفت یونیفارم پر سمرگ شکشا ابھیان کا لوگو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 
 
سرکیولرکےمطابق اسکول کے پہلے دن اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے ذریعے تمام طلبہ میں یونیفارم تقسیم کرنا ضروری ہے لیکن اسکول شروع ہونے سے ۱۵؍ دن پہلے ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات نے اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں، یونیفارم فراہم کرنے والوں اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کیلئے ایک مسئلہ کھڑا کر دیا ہے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ طلبہ کو پہلے دن ہی یونیفارم مل جائے، بیشتر اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں نے گزشتہ ہدایات کے مطابق اکتوبر میں یونیفارم کی خریداری کا عمل شروع کیا تھا ۔کئی کمیٹیوں نے یونیفارم کے ڈیزائن تیار کئے، کپڑا خریدا اور سلائی کیلئے دیا۔ بیشتر یونیفارم تیا ر ہوگئےہیں ۔ اسکول انتظامیہ اور یونیفارم فراہم کرنے والوں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بہت تاخیر سے لیا گیا کیونکہ یونیفارم کی تیاری کا عمل آخری مرحلے میں ہے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK