بحر الکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے ملک میں مانسون، بارش ، لو، پانی کی دستیابی اور ایکو سسٹم پرگہرا اثر پڑ سکتا ہے، بر وقت اقدامات کی اپیل۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 11:11 AM IST | Agency | New Delhi
بحر الکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے ملک میں مانسون، بارش ، لو، پانی کی دستیابی اور ایکو سسٹم پرگہرا اثر پڑ سکتا ہے، بر وقت اقدامات کی اپیل۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہندوستان کو۲۷-۲۰۲۶ء میں ممکنہ طور پر شدید ایل نینو اثر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحر الکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی سے ملک میں مانسون، بارش، لو، پانی کی دستیابی اور ایکو سسٹم پر اثر پڑ سکتا ہے۔۱۶؍ ستمبر کو جاری ایک رپورٹ کے مطابق ۱۸۰؍ سے زیادہ ہندستانی ماحولیاتی اور موسمیاتی محققین نے شدید ہوتے ال نینو کے ممکنہ اثرات کا پتہ لگانے کیلئے بہتر نگرانی اور بروقت تیاری کی مانگ کی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسم کی شدید صورتحال سے پہلے نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے سے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کیلئے بہتر تیاری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: وائٹ ہاؤس کی وینڈیز کے پرانے انداز میں پیکنگ کا سہرا لینے کی کوشش
ایل نینو وسطی اور مشرقی بحر الکاہل میں سمندر کی سطح کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے جڑا ایک موسمی واقعہ ہے اور دنیا بھر میں موسم کے پیٹرن پر اثر ڈال رہا ہے۔ ہندوستان میں، ال نینو کے واقعات کا تعلق مانسون کی بارش میں تبدیلی اور گرمی سے جڑے خطرات کے بڑھنے سے رہا ہے، حالانکہ ہر واقعے کی شدت اور اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ امسال کم بارش کو بھی ایل نینو کا ہی اثر بتایاجا رہا ہے۔ سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جیسے جیسے موسم کی صورتحال بدل رہی ہے، ویسے ویسے جنگلات، ندیوں، پہاڑوں، ساحلی علاقوں، سمندروں اور جنگلی حیات کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر بہتر نگرانی، موسم کی نگرانی کرنے والے زیادہ اسٹیشن اور زیادہ رئیل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرنے سے سیٹیلائٹ سے ملنے والی معلومات اور پرانے اعداد و شمار کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ایک مضبوط ایل نینو سے لو اور کچھ علاقوں میں معمول سے کم بارش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ ایل نینو کا تعلق اکثر ہندوستان میں مانسون کی بارش کے پیٹرن میں تبدیلی سے رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں کم بارش سے خشک سالی کی موجودہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت لو کے تسلسل اور شدت کو بڑھا سکتا ہے۔ جن علاقوں میں پہلے سے ہی پانی کی کمی ہے، وہ علاقے زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت اور طویل عرصے تک خشک سالی کی حالت سے جنگل کی آگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے جس سے ایکو سسٹم، جنگلی حیات اور ان کے رہنے کی جگہوں کو مزید خطرہ ہو سکتا ہے۔درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ شہری علاقوں میں گرمی کا اثر اور زیادہ ہو سکتا ہے، جس سے لوگوں کی صحت کیلئے خطرہ بڑھ سکتا ہے اور پانی و توانائی کے وسائل پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔