اسکاٹش چرچ کالج کے طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ’’نمو سیوا‘‘ میں انکار کے سبب دھمکی کا سامنا ہے،طلبہ کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں سامعین سے ’’ جے شری رام‘‘ لگانے کی اپیل کی گئی تھی، ان کے اس ڈرامے میں شرکت سے انکار پر انتظامیہ نے نتائج کی دھمکی دی۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 9:59 PM IST | Kolkata
اسکاٹش چرچ کالج کے طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ’’نمو سیوا‘‘ میں انکار کے سبب دھمکی کا سامنا ہے،طلبہ کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں سامعین سے ’’ جے شری رام‘‘ لگانے کی اپیل کی گئی تھی، ان کے اس ڈرامے میں شرکت سے انکار پر انتظامیہ نے نتائج کی دھمکی دی۔
اسکاٹش چرچ کالج کے متعدد طلبہ نے الزام لگایا ہے کہ جب انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف میں لکھے گئے ڈرامے میں حصہ لینے سے انکار کیا تو کالج انتظامیہ نے انہیں ’’نتائج‘‘ کی دھمکی دی ۔طلبہ، جن میں سے کئی کالج ڈراما کلب کے اراکین ہیں، نے کہا کہ انہوں نے اس ڈرامے میں اداکاری سے انکار کر دیا جس میں دیگر باتوں کے ساتھ سامعین سے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے کی اپیل کی گئی ہے اور اس میں یہ دعویٰ کرنے والے مکالمے شامل ہیں کہ ہندوستانیمسلح افواج کے ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ کے دوران پاکستان میں ڈائپر کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ ڈرامہ، ’’نمو سیوا گاتھا‘‘، ۲۹؍ ستمبر کو کالج آڈیٹوریم میں پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی جانب سے مودی کی سالگرہ کے مہینے کو منانے کے لیے ترتیب دیے گئے پروگراموں کے ایک تسلسل کا حصہ ہے۔
بعد ازاں ایک طالب علم کی والدہ نے الزام لگایاکہ جب طلبہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ جبر ہفتے کے آغاز سے جاری ہے۔ جمعرات کی رات، ڈرامے اور وزیر اعظم کی تعریف میں دیگر سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مقرر کردہ کالج نمائندوں کے ساتھ آن لائن میٹنگ کے دوران، انہیں بار بار دھمکیاں دی گئیں کیونکہ انہوں نے اپنے موقف سے ہٹنے سے انکار کیا۔ انہیں یہاں تک کہا گیا کہ ان کے اندرونی امتحانات اور پروجیکٹس کے نمبروں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘نہوں نے کہا، ’’اس جبر نے میرے بیٹے اور دیگر کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں سمجھ نہیں پاتی کہ اگر وہ وزیر اعظم کی تعریف کرنے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں ڈرانے دھمکانے کا نشانہ کیوں بنایا جائے؟ کیا ہم آزاد ملک میں نہیں رہتے؟‘‘مبینہ طور پر کچھ طلبہ نے کالج سے کہا ہے کہ وہ ڈرامے کے لیے اے بی وی پی، جو آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم ہے، کے حامی طلبہ کو شامل کریں۔ تاہم پرنسپل نے جبر کے الزامات کی تردید کی۔پرنسپل مدھومناجری منڈل نے کہا، ’’ہم نے ڈراما کلب کے اراکین سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ڈرامے میں حصہ لینے کو کہا۔ جب ان میں سے بہت سے لوگوں نے جواب نہ دیا تو ہم نے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حصہ نہیں لیں گے۔ ہم ان کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔کالج کی ویب سائٹ کے افتتاحی صفحے پر۱۷؍ ستمبر، جب مودی۷۶؍ سال کے ہوئے، سے۶؍ اکتوبر تک جاری رہنے والے پروگراموں کی فہرست ہے۔ افتتاحی دن کی تقریب کو ’’آشیرواد کا دیا‘‘ کہا گیا، جہاں وزیر اعظم کی عوامی خدمت کی علامت کے طور پر دیے جلائے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں مسلمانوں سے مبینہ ناروا سلوک پر اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
دریں اثناءڈرامے کی اسکرپٹ تمام اسکولوں اور کالجوں کو بھیجی گئی، اور اداروں کو اپنی پرفارمنس کی ویڈیوز حکومت کو بھیجنی ہیں۔ علاوہ ازیںبنگال میں، مئی کے آغاز میں اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں وزیر اعظم کے نوجوانوں سے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے پروگراموں کو مکمل پیمانے پر منانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ تاہم اس اخبار سے بات کرنے والے ایک طالب علم نے کہا کہ، جب ایک طالب علم کی والدہ کے دوست نے سوشل میڈیا پر طلبہ کی تکلیف کے بارے میں لکھا تو ایک دن بعد کالج کا رویہ جمعہ کے روز کسی حد تک بدل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامے میں اداکاری رضاکارانہ ہے۔ لیکن جمعرات تک ایسا نہیں تھا۔ ہم پر نہ کہنے پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹیم کے ایک رکن، جس کی صحت کی حالت تناؤ سے بگڑ گئی تھی، شدید بیمار ہو گئے اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے سابق پروفیسر اچن چکرورتی نے کہا کہ یہ ’’انتہائی تشویشناک‘‘ ہے کہ طلبہ پر ڈرامے میں اداکاری کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے پہلے، اس ڈرامے کا طلبہ کے نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر، اگر الزامات درست ہیں تو انہیں ایسا ڈرامہ پیش کرنے پر دباؤ کیوں ڈالا جائے گا جس پر وہ اعتراض کر رہے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اساتذہ دباؤ ڈال رہے ہیں کیونکہ وہ خود خوفزدہ ہیں۔ جو ہو رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ہم کدھر جا رہے ہیں؟‘‘ جبکہ پرنسپل منڈل نے کہا کہ کالج ریاستی حکومت کے احکامات کی پیروی کرنے کا ’’پابند‘‘ ہے۔انہوں نےمزید کہاکہ ، ’’بہت سے دیگر کالجوں کی طرح، ہم اعلیٰ تعلیمی محکمے کے احکامات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہیں۔ ڈرامے میں حصہ لینا رضاکارانہ ہے۔‘‘