ریڈریس اور عالمی ادارہ برائے انسداد تشدد نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مشترکہ شکایت پیش کی، آزاد تحقیقاتی ادارہ اور ہندوستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی سفارش۔
EPAPER
Updated: September 26, 2026, 9:06 AM IST | New Delhi
ریڈریس اور عالمی ادارہ برائے انسداد تشدد نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مشترکہ شکایت پیش کی، آزاد تحقیقاتی ادارہ اور ہندوستان کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی سفارش۔
انسانی حقوق کی تنظیموں ریڈریس اور عالمی ادارہ برائے انسداد تشدد (او ایم سی ٹی) نے اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مشترکہ شکایت جمع کرائی ہے۔ ۲۲؍ ستمبر کو جاری بیان کے مطابق شکایت میں ریاست میں پولیس اور غیر سرکاری عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر غیر قانونی قتل، حراست کے دوران تشدد، مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور قوانین کے امتیازی استعمال سمیت متعدد معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ریڈریس کے مطابق شکایت ہندوستانی ماہرین کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اور اس میں ان انسانی حقوق کی تنظیموں کے دستاویزی کام کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کی شناخت حفاظتی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی۔ شکایت میں ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۶ء میں پینل آف انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل ایکسپرٹس کی جانب سے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق کی گئی ۲؍ تحقیقات کے نتائج بھی شامل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہم پر دوبارہ حملہ کیاگیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے:ایران
شکایت میں خاص طور پر پولیس کے مبینہ ’’انکاؤنٹر‘‘ میں مسلمانوں کے غیر قانونی قتل، پولیس حراست میں تشدد اور ناروا سلوک، بعض غیر سرکاری گروہوں کی جانب سے تشدد، احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور فوجداری و انتظامی قوانین کے ذریعے مسلمانوں کو من مانی حراست میں لینے یا ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے الزامات درج کیے گئے ہیں۔ ریڈریس نے ان دعوؤں کو اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔ شکایت میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے ایک آزاد تحقیقاتی ادارہ قائم کرنے کی سفارش پر غور کرنے کو کہا گیا ہے، جو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے۔ اس کے ساتھ مستقبل میں ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے شواہد محفوظ رکھنے کا بین الاقوامی نظام قائم کرنے اور ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ان تنظیموں نے ہندوستانی حکومت سے بھی مبینہ تشدد، حراست میں بدسلوکی اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کی مؤثر تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکایت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کی مذمت، قومی انسانی حقوق کمیشن کی آزادانہ کارکردگی یقینی بنانے اور پولیس، جیل عملے، سکیورٹی اہلکاروں اور عدالتی حکام کی تربیت میں انسانی حقوق اور تشدد کی روک تھام سے متعلق تعلیم شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ شکایت میں ہندوستان سے اقوام متحدہ کے انسداد تشدد کنونشن اور اس کے اختیاری پروٹوکول کی توثیق کے لیے عملی منصوبہ بنانے اور مذہبی اقلیتوں کو تشدد، غیر قانونی قتل اور امتیازی سلوک سے تحفظ دینے کے لیے قانونی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تنظیموں نے اتر پردیش میں من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور حراست کے دوران قانونی تحفظات اور عدالتی نگرانی یقینی بنانے کی سفارش بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: حضرت نوح کی کشتی کی تلاش، زیر زمین ممکنہ ڈھانچوں نے پھر بڑھایا تجسس
یہ شکایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے ۲۵؍ اگست کو ہندوستان کے بارے میں اپنی تازہ سفارشات جاری کی تھیں۔ کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نسلی اور مذہبی شناخت رکھنے والے مختلف گروہوں کے خلاف مبینہ تشدد، ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل، من مانی اور طویل حراست، تشدد اور ناروا سلوک کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ کمیٹی کی دستاویز میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شکایات کی تحقیقات، سیاسی شخصیات کی جانب سے مبینہ نفرت انگیز بیانات اور اقلیتی گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق بھی متعدد سفارشات شامل ہیں۔ تاہم کمیٹی کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے درج فہرست ذاتوں، قبائلی برادریوں، دلتوں اور غیر شہریوں سمیت مختلف گروہوں سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کیا۔
پینل آف انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل ایکسپرٹس نے مارچ ۲۰۲۶ء میں جاری اپنی رپورٹ میں اتر پردیش میں مسلمانوں کے حوالے سے پولیس ’’انکاؤنٹر‘‘، حراستی تشدد، گرفتاریوں، احتجاج سے نمٹنے کے طریقوں، بعض قوانین کے نفاذ اور گھروں و کاروباری مقامات کے انہدام سمیت متعدد معاملات کا جائزہ لیا تھا۔ پینل نے کہا تھا کہ اس نے وسیع اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں قابل اعتماد شواہد پائے ہیں، جبکہ بعض واقعات کے بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آنے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔ یہ پینل اقوام متحدہ کا ادارہ نہیں بلکہ آزاد ماہرین کا گروپ ہے۔ پینل کے مطابق مارچ ۲۰۱۷ء سے ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۵ء تک اتر پردیش پولیس کی جانب سے ۱۶۲۸۴؍ سے زیادہ ایسے آپریشن کیے گئے جن میں ۲۶۶؍ افراد ہلاک ہوئے۔ پینل نے سابقہ سرکاری اعداد و شمار کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ستمبر ۲۰۲۴ء تک ۲۰۷؍ ہلاکتوں میں ۶۷؍ مسلمان تھے، یعنی ۳۲؍ فیصد سے زیادہ، جبکہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً ۱۹؍ فیصد ہے۔ تاہم پینل نے یہ بھی واضح کیا کہ ۲۰۲۵ء کے لیے ہلاک ہونے والوں کی مذہبی شناخت کے لحاظ سے مکمل سرکاری تفصیل دستیاب نہیں ہے۔
ہندوستانی حکومت نے اگست میں اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز سے متعلق کمیٹی کے مشاہدات پر اعتراض کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے رپورٹ کے بعض حوالوں کو ’’سیاسی طور پر محرک‘‘ اور ’’بدنیتی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان نسلی امتیاز کے خلاف اپنی وابستگی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی وفد نے جائزے کے دوران آئینی تحفظات، قانونی نظام اور محروم طبقات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات پیش کی تھیں۔ ریڈریس اور او ایم سی ٹی کی تازہ شکایت اب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے ہے، جہاں تنظیموں نے اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ جانچ اور شواہد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی طریقۂ کار قائم کرنے پر غور کرنے کی درخواست کی ہے۔