روس اور چین نے جوہری معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوششوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 1:31 PM IST | Agency | New York
روس اور چین نے جوہری معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوششوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ۵؍ مستقل اراکین کے درمیان جمعرات کو ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی قانونی حیثیت کے معاملے پر شدید اختلاف سامنے آیا۔ روس اور چین نے۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوششوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔یہ تنازع سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران اس وقت پیدا ہوا جب روس نے۱۷۳۷؍ پابندیوں کی کمیٹی کے بارے میں مقررہ بریفنگ کو روکنے کی کوشش کی۔ ماسکو کا مؤقف تھا کہ کمیٹی اور پابندیوں کے نظام کی قانونی بنیاد ختم ہوچکی ہے۔ ماسکو کا کہنا تھا کہ قرارداد ۲۲۳۱؍کی مدت ۱۸؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو ختم ہوگئی تھی اور اسی روز ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کے فعال ایجنڈے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔روس نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر پابندیوں کی نگرانی کے لئے قائم۱۷۳۷؍ کمیٹی ۲۰۱۵ء ہی میں ختم ہوچکی تھی، اس لئے اس کے کام جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ولادیمیر پوتن یوکرین کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں: ڈونالڈ ٹرمپ
چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کو پابندیوں کی کمیٹی سے متعلق ۹۰؍ روزہ رپورٹ تیار کرنے یا پیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
چینی نمائندے نے کہا،’’کچھ اراکین اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران پر کونسل کی پابندیاں زبردستی دوبارہ عائد کرنے کیلئے کونسل کے اجلاس بلانے پر اصرار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کونسل میں اختلافات کو مزید گہرا کریں گے اور سیاسی حل کو مزید مشکل بنا دیں گے۔بیجنگ نے پابندیوں کے نظام کو یکطرفہ طور پر بحال کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس کی سخت مخالفت کی۔ مغربی اراکین نے روس اور چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ذمہ داریاں پوری نہ کئے جانے کے بعد پابندیاں قانونی طور پر بحال ہوچکی ہیں۔