Inquilab Logo Happiest Places to Work

خامنہ ای کی شہادت کا سبب بننے والی سیکوریٹی خامیاں ختم نہیں ہوئیں: عباس عراقچی

Updated: July 21, 2026, 10:27 AM IST | Tehran

ایران کے وزیر خارجہ نےانٹرویو میںکہا کہ جنگ کے دوران تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے ، ہم خوفزدہ تھے اور بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون زندہ ہیںاور کون مارے جا چکے ہیں۔

Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. Photo: INN
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی۔ تصویر: آئی این این

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کی شہادت کا سبب ایک’ سیکوریٹی خلا ‘ بنااور یہ  سیکوریٹی خلا اب بھی موجود ہے۔ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ۲۸؍ فروری کو ہونے والے اُس حملے  نے جس میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں موجود ایک ایسے سیکوریٹی خلا کو بے نقاب کیا ہے جو غالباً آج بھی برقرار ہے۔عباس عراقچی نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا باعث بننے والی سیکوریٹی خامیوں کو اب تک مکمل طور پر دور نہیں کیا جا سکا۔ اس اعتراف سے ایران کے سیکوریٹی اداروں کی اعلیٰ قیادت کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: کیئر اسٹارمر مستعفی، اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم مقرر

انہوں نے قدامت پسند اور حکومت نواز میڈیا شخصیت جواد مقائی کے ساتھ ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ چند ہی سیکنڈ میں تہران کے پاستور علاقے میں واقع کمانڈ سینٹر کو تین حملوں کا نشانہ بنایا گیا جہاں ایران کے سپریم لیڈر کے دفاتر اور ہیڈکوارٹرز موجود ہیں۔عراقچی نے کہا ’’ میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ (امریکہ اور اسرائیل) کو ان اجلاسوں کی مکمل معلومات تھیں۔ یہ ممکنہ طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک سیکوریٹی خلا موجود تھا، اور غالب امکان ہے کہ وہ اب بھی موجود ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء: دنیا بھر میں اسپین کی فتح کا جشن، خوشی کے موقع پر فلسطین کو بھی یاد رکھا گیا

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف دراندازی تک محدود نہیں تھا۔ کبھی کبھی اس میں فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر اثرانداز ہونا بھی شامل ہوتا ہے تاہم انہوں نے مزید کہامیں اس بارے میں عوامی سطح پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ذاتی طور پر ملاقات نہیں کی ۔ ان کے بقول صرف چند ہی افراد نے ان سے ملاقات کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت قریبی مقام پر اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس اور وزارتِ انٹیلی جنس کا ایک اجلاس بھی جاری تھا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارت خارجہ ہی میں موجود رہے۔ ان کے بقول ۴۰؍ روزہ جنگ کے دوران ، میرے نائبین، ساتھیوں اور میں نے وزارت خارجہ کی عمارت نہیں چھوڑی۔ کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں تھی ۔ عراقچی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جنگ شروع ہونے کے۳؍ روز بعد انہوں نے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی،۵؍ روز بعد علی لاریجانی سے مشاورت کی، جبکہ چھٹے روز ایک محفوظ مقام پر باضابطہ اجلاس منعقد کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’جنگ کے آغاز کے دنوں میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ حکومت اور فوج کے اعلی حکام کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے۔ ہم خوف زدہ تھے اور بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہمارے کون کون ساتھی زندہ ہیں اور کون مارے جا چکے ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK