Updated: July 20, 2026, 9:03 PM IST
| London
برطانیہ میں اہم سیاسی تبدیلی کے تحت کیئر اسٹارمر نے بادشاہ کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا، جس کے بعد اینڈی برنہم کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی گئی اور وہ ملک کے نئے وزیرِ اعظم بن گئے۔ اسٹارمر نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ ان کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ برنہم نے اقتدار سنبھالتے ہوئے معاشی بحالی، عوامی خدمات میں اصلاحات اور اختیارات کی علاقائی سطح پر منتقلی کو اپنی حکومت کی ترجیحات قرار دیا۔
اینڈی برنہم اورکیئر اسٹارمر۔ تصویر: آئی این این
برطانیہ میں اقتدار کی ایک اور بڑی تبدیلی رونما ہو گئی ہے، جہاں کیئر اسٹارمر نے پیر کو بکنگھم پیلس جا کر کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے اینڈی برنہم کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی اور وہ باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم بن گئے۔ استعفیٰ پیش کرنے سے قبل کیئر اسٹارمر نے ۱۰؍ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنی آخری تقریر میں کہا، ’’میرا کام مکمل ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لیبر پارٹی کو ۲۰۱۹ء کی تاریخی شکست کے بعد دوبارہ منظم کیا اور ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں واضح کامیابی دلائی۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء: دنیا بھر میں اسپین کی فتح کا جشن، خوشی کے موقع پر فلسطین کو بھی یاد رکھا گیا
یاد رہے کہ اسٹارمر نے گزشتہ ماہ لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ان پر پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ، مقامی انتخابات میں خراب کارکردگی اور عوامی مقبولیت میں مسلسل کمی کے بعد استعفیٰ دینے کے لیے زور دیا جا رہا تھا۔ ان کی حکومت کو معاشی مشکلات، بعض غیر مقبول فلاحی اصلاحات اور واشنگٹن میں برطانوی سفیر کے طور پر پیٹر مینڈیلسن کی تقرری پر بھی سخت تنقید کا سامنا رہا۔ ۵۶؍ سالہ اینڈی برنہم، جو اس سے قبل گریٹر مانچسٹر کے میئر تھے، گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ وہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کی وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار ہوئی۔ برنہم نے حال ہی میں میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں واضح کامیابی حاصل کر کے دوبارہ ہاؤس آف کامنز میں واپسی کی، جس کے بعد انہیں لیبر قیادت کے لیے درکار پارلیمانی اہلیت حاصل ہوئی۔ چند ہی ہفتوں میں انہیں پارٹی کے ارکانِ پارلیمان کی وسیع حمایت حاصل ہو گئی اور وہ واحد امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: جے ڈی وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش، ڈیڑھ صدی پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا
اینڈی برنہم جنوری ۱۹۷۰ء میں لیورپول کے قریب اینٹری میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں کیمبرج یونیورسٹی کے فٹز ولیم کالج سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل وہ مختلف سرکاری اور پارلیمانی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ ۲۰۰۱ء میں پہلی مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے صحت، ثقافت، خزانہ اور داخلہ سمیت کئی اہم وزارتوں میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ۲۰۰۹ء میں انہیں وزیرِ صحت مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی نجکاری کی مخالفت کی اور قومی نگہداشت کے نظام سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ پارٹی قیادت کے لیے وہ ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۵ء میں بھی امیدوار رہے، تاہم دونوں مواقع پر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکی حملے جاری؛ آئندہ دنوں میں حملوں میں مزید شدت لانے کا ارادہ؛ خام تیل کی قیمتیں بڑھیں
۲۰۱۷ء میں اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ چھوڑ کر گریٹر مانچسٹر کے میئر کا انتخاب لڑا، جہاں انہوں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور بعد میں ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۴ء میں بھی دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان کے دور کا سب سے نمایاں منصوبہ گریٹر مانچسٹر کے بس نظام کو دوبارہ عوامی کنٹرول میں لانا تھا، جسے لندن سے باہر اس نوعیت کی پہلی بڑی اصلاح قرار دیا گیا۔ کووڈ ۱۹؍ وبا کے دوران بھی برنہم نے مرکزی حکومت سے شمالی انگلینڈ کے لیے زیادہ مالی امداد کا مطالبہ کیا، جس کے بعد انہیں شمالی علاقوں کے مضبوط ترجمان کے طور پر شہرت ملی اور میڈیا نے انہیں ’’کنگ آف دی نارتھ‘‘ کا لقب دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں میں چکن پاکس پھیل رہا ہے؛ شہری و طبی انفراسٹرکچر کی تباہی اہم وجہ
وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنی پہلی تقریر میں اینڈی برنہم نے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت عوامی اعتماد بحال کرنے، معاشی بحالی، گھریلو اخراجات میں کمی، عوامی خدمات میں اصلاحات اور اختیارات کو ویسٹ منسٹر سے ملک کے شہروں اور علاقوں تک منتقل کرنے پر توجہ دے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق برنہم کو اب نہ صرف سست معاشی ترقی، دباؤ کا شکار عوامی خدمات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہوگا بلکہ انہیں ریفارم یو کے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ مجوزہ اصلاحات کی مالی اعانت کس طرح کی جائے گی اور خارجہ پالیسی میں ان کی ترجیحات کیا ہوں گی۔