• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر ہدایت پٹیل کا قتل

Updated: January 08, 2026, 11:31 AM IST | Ali Imran | Akola

مسجد سے باہر نکلتے ہوئے اچانک حملہ، اسپتال میں دم توڑا، موت سے قبل حملہ آوروں کے نام بتائے،علاقے میں غم وغصے کی لہر۔

Hidayat Patel. Picture: INN
ہدایت پٹیل۔ تصویر: آئی این این
کانگریس کے ریاستی نائب صدر ہدایت پٹیل کا اکولہ ضلع کے آکوٹ تعلقہ میںبے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پٹیل بدھ کی سہ پہر اُن کے آبائی گاؤں موہالا میں مسجد سے باہر نکل رہے تھے تبھی اُن پر چاقو سے حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا گیا ۔  اُنہیں  فوری طور پراکولہ کے اوزون اسپتال میں داخل کروایا گیا لیکن بدھ کی صبح تقریباً ساڑھے ۳؍بجے علاج کے دوران اُن کی موت ہوگئی۔
اطلاع کے مطابق ہدایت پٹیل موہالا گاؤں میں نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آرہے تھے کہ کچھ حملہ آوروں نے انہیں گھیر کر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ حملے میں پٹیل کے پیٹ اور گردن پر گہرے زخم آئے۔ سرعام ہوئے اس حملے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ۔ خون میں لت پت پٹیل کو فوری طور پر آکوٹ کے اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم، بہت زیادہ خون بہنے اور زخموں کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، ابتدائی علاج کے بعد اکولہ کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران اُن کی موت ہوگئی۔ قتل کی وجہ پرانی رنجش بتائی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ۲۴؍ مئی ۲۰۱۹ ءکو بی جے پی اقلیتی سیل کے سابق عہدیدار متین شیرخان پٹیل کو پارلیمانی انتخابات کے دوران موہالا میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ہدایت پٹیل سمیت ۱۰؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔اطلاع ہے کہ ہدایت پٹیل پر مقتول متین پٹیل کے بھتیجے عبید پٹیل نے اپنے چچا کے قتل کا بدلہ لینے کی نیت سے حملہ کیا۔ آکوٹ پولیس نے کہا کہ ہم بھی اس سمت میں تفتیش کر رہے ہیں۔ ہدایت پٹیل پر حملے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہی اکولہ اور آکوٹ کانگریس کارکن بڑی تعداد میں اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔ کارکنان کے غصے کو دیکھتے ہوئے اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پولیس نے اکولہ شہر اور موہالا گاؤں میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی تھی۔ پولیس کے مطابق اپنی موت سے پہلے دیئے گئے بیان میں ہدایت پٹیل نے۵؍ حملہ آروں کے نام بتائے تھے جن میں سے لوکل کرائم برانچ پولیس کی ٹیم عبید پٹیل کو گرفتار کرچکی ہے۔ ہدایت پٹیل کے متعلقین کا کہنا ہے کہ جب تک اس قتل کا کلیدی ملزم بدرالزماں اور راجو بوچے، سنجے بوڑکھے، فاضل خان اور فاروق خان گرفتار نہیں ہوجاتے وہ تدفین نہیں کریں گے۔ بتادیں کہ اکولہ سے ہدایت پٹیل کا جنازہ آکوٹ دیہی پولیس اسٹیشن لاکر رکھ دیا گیا تھا۔ رشتہ داروں اور حامیوں کی بھاری بھیڑ اس بات پر بضد تھی کہ جب تک ملزمین کو گرفتار نہیں کیا جاتا وہ میت نہیں اٹھائیں گے۔ اس دوران ایس پی ارچِت چانڈک اور رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان مظاہرین اور رشتہ داروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم شام ۵؍ بجے تک یہ احتجاج جاری رہا۔ آخرکار ملزمین کی گرفتاری کی یقین دہانی پر ہدایت پٹیل کے بیٹے فتح پٹیل مان گئے اور جنازہ پولیس اسٹیشن سے اٹھالیا گیا۔ بعد نماز مغرب ہدایت پٹیل کے آبائی گاؤں موہالا میں تدفین عمل میں آئی۔ جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس کے پش نظر موہالا گاؤں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔بتادیں کہ ہدایت پٹیل مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر اور اکولہ ضلع کے سینئر لیڈر تھے۔ انہوں نے ۲۰۱۴ ءاور ۲۰۱۹ء  میں کانگریس امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا تھا۔ ہدایت پٹیل کو اکولہ ضلع میں کانگریس کے فعال اور اہم چہرے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے ہدایت پٹیل کوخراج عقیدت پیش کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK