• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خام تیل میں تیزی سے سینسیکس ایک ہزار سے زیادہ پوائنٹس لڑھکا، ۳۲؍ ماہ کی نچلی سطح پر

Updated: October 08, 2026, 10:05 PM IST | Mumbai

بیرون ملک سے ملنے والے منفی اشاروں اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث جمعرات کو گھریلو حصص بازاروں میں زبردست گراوٹ رہی اور بی ایس ای کا ۳۰؍ حصص والا سینسیکس ایک ہزارسے زیادہ پوائنٹس ٹوٹ کر ۳۲؍ماہ کی نچلی سطح پر بند ہوا۔

Share Market Down.Photo:INN
شیئر مارکیٹ میں گراوٹ ۔ تصویر:آئی این این

بیرون ملک سے ملنے والے منفی اشاروں اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث جمعرات کو گھریلو حصص بازاروں میں زبردست گراوٹ رہی اور بی ایس ای کا ۳۰؍ حصص والا سینسیکس  ایک ہزارسے زیادہ پوائنٹس ٹوٹ کر ۳۲؍ماہ کی نچلی سطح پر بند ہوا۔ سینسیکس  ۳۰ء۲۹؍پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ۷۲۶۶۸؍ پوائنٹس پر کھلا، لیکن کھلتے ہی سرخ نشان میں چلا گیا۔ رفتہ رفتہ اس کی گراوٹ بڑھتی گئی۔ ایک وقت یہ  ۱۳۰۰؍پوائنٹس سے زیادہ ٹوٹ گیا تھا۔ آخر میں سینسیکس ۴۶ء۱۰۴۵؍پوائنٹس یعنی۴۴ء۱؍ فی صد کی کمی کے ساتھ۲۴ء۷۱۵۹۳؍ پوائنٹس پر رہا، جو۱۳؍ فروری ۲۰۲۴ء کے بعد اس کی سب سے کم اختتامی سطح ہے۔تقریباً تمام بڑے غیر ملکی بازار آج سرخ نشان میں رہے۔ اس کے ساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں ۴؍ فی صد کی تیزی کے باعث بھی گھریلو حصص بازاروں میں سرمایہ کاروں کا رجحان کمزور رہا۔ لندن کا برینٹ خام تیل کا مستقبل کا سودہ فی الحال ساڑھے 4 فی صد سے زیادہ اچھل کر۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی ۵۰؍ اشاریہ ۲۵ء۳۷۱؍ پوائنٹس یعنی۶۴ء۱؍ فی صد لڑھک کر۸۰ء۲۲۲۳۱؍  پوائنٹس پر رہا۔ یہ ۷؍ اپریل  ۲۰۲۵ء کے بعد اس کی ڈیڑھ سال کی نچلی سطح ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے نانا پاٹیکر کو یاد، کہا: ’’ہیرو بننے کی کوشش میں اداکار کو مت کھونا‘‘

ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اضافے اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز سے پہلے ہی دوچار ہندوستانی حصص بازار کو ریپو ریٹ میں اضافے نے مزید جھٹکا دیا۔ اگرچہ ریپو ریٹ میں اضافے کے امکانات پہلے ہی موجود تھے، لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے مہنگائی کے اندازے میں بھی اضافہ کیے جانے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔ ۸؍اکتوبر کو دورانِ کاروبار سینسیکس تقریباً ۱۳۱۱؍ پوائنٹس تک گر گیا، جبکہ نفٹی بھی ۲۲۲۰۰؍ کی سطح سے نیچے چلا گیا۔ وسیع تر بازار میں بھی زبردست فروخت کا دباؤ دیکھا گیا اور نفٹی مڈ کیپ ۱۰۰؍ اور نفٹی اسمال کیپ ۱۰۰؍ میں تقریباً ڈھائی فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر اس شدید گراوٹ کے باعث بی ایس ای پر درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ قدر میں ۱۱؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو نے لیونل میسی کو ’گلے لگنے‘ کا پیغام بھیجا

ریپو ریٹ میں اضافہ، مہنگائی کے بڑھتے خدشات، عالمی بانڈز کی شرح منافع میں تیزی، خام تیل کی بلند قیمتوں، کمزور روپے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت نے بازار پر شدید دباؤ ڈالا۔ ریزرو بینک نے ۷؍ اکتوبر کو ریپو ریٹ میں ۲۵؍ بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے ۵۰ء۵؍ فیصد کردیا تھا، جو تقریباً چار سال میں پہلی شرح اضافہ تھا۔ مرکزی بینک نے اپنی پالیسی کا رخ بھی ’’مرحلہ وار سختی‘‘ کی جانب تبدیل کیا۔
اس گراوٹ کی سب سے زیادہ شدت آٹو، دھات اور جائیداد سے متعلق شعبوں میں محسوس کی گئی۔ نفٹی میٹل اور نفٹی ریئلٹی میں تین فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ نفٹی آٹو تقریباً ڈھائی فیصد نیچے آیا۔ نفٹی ایف ایم سی جی میں بھی دو فیصد سے زیادہ گراوٹ رہی۔ سرکاری بینکوں اور نجی بینکوں کے حصص بھی دباؤ میں رہے، جبکہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی بازار کو سہارا دینے میں کامیاب نہ ہوسکا اور معمولی کمی کے ساتھ سرخ نشان پر بند ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK