Updated: October 27, 2026, 8:09 PM IST
| Belgrade
۲۰۱۴ء سے وزیرِ اعظم یا صدر کی حیثیت سے سربیا کی سیاست پر غالب رہنے والے ووچک نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار چکے ہیں، اسٹوڈنٹ لسٹ جیت چکی ہے۔“ اپوزیشن کی شاندار فتح کے بعد دارالحکومت بیلگریڈ بھر میں جشن منایا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد سڑکوں پر جمع ہو کر ناچنے لگے۔ حالیہ انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ تقریباً ۷۰ فیصد تک پہنچ گیا، جو ۱۹۹۲ء میں سربیا کے یوگوسلاویہ کے علیحدہ ہونے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
اپوزیشن کی فتح کے بعد بیلگریڈ کی سڑکوں پر جشن کا ماحول۔ تصویر: ایکس
ریپبلک الیکٹورل کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق، سربیا کے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی حمایت یافتہ ”اسٹوڈنٹ لسٹ - اسٹوڈنٹس ون“ نے ۷۱ء۵۲ فیصد ووٹ یعنی تقریباً ۲۲ لاکھ ۶۰ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے اور ۲۵۰ رکنی قومی اسمبلی میں ۱۴۰ نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ سربیئن صدر الیگزینڈر ووچک کی پارٹی ”یونائیٹڈ سربیا“ نے ۱۷ء۳۹ فیصد، یعنی تقریباً ۱۶ لاکھ ۸۰ ہزار ملین ووٹ حاصل کئے اور ۱۰۴ نشستوں پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ سوشلسٹ پارٹی آف سربیا نے ۱۷ء۲ فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن وہ کوئی نمائندگی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ چار اقلیتی فہرستوں نے بھی نشستیں حاصل کیں، جبکہ ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد ۴۳ لاکھ سے زائد رہی۔
یہ بھی پڑھئے: گامبیا: ملک کےپہلے نابینا مجسٹریٹ کی تنقید، تمام نظام کی تشکیل اہل بینا کے مطابق
۲۰۱۴ء سے وزیرِ اعظم یا صدر کی حیثیت سے سربیا کی سیاست پر غالب رہنے والے ووچک نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ واضح ہے کہ ہم یہ انتخابات ہار چکے ہیں، اسٹوڈنٹ لسٹ جیت چکی ہے۔“ اپوزیشن کی شاندار فتح کے بعد دارالحکومت بیلگریڈ بھر میں جشن منایا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد سڑکوں پر جمع ہو کر ناچنے لگے۔ اس موقع پر انہوں نے ”فتح“ کے نعرے بھی بلند کئے۔
یہ انتخابات مبینہ بدعنوانی اور آمریت کے خلاف تقریباً دو سال سے طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج کے بعد ہوئے۔ ۲۰۲۴ء میں نووی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے نتیجے میں یہ احتجاج شروع ہوا تھا جس میں ۱۶ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ تقریباً ۷۰ فیصد تک پہنچ گیا، جو ۱۹۹۲ء میں سربیا کے یوگوسلاویہ کے علیحدہ ہونے کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے
ماہرِ امراضِ قلب الیجا سارادانووک کی قیادت میں اسٹوڈنٹ لسٹ کے امیدواروں میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، اداکار اور کسان شامل ہیں، جن کے طرزِ حکومت یا وزیرِ اعظم کے نام کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ تجزیہ کار پولیس اور سیکوریٹی اداروں میں ووچک کے اتحادیوں کی ممکنہ برطرفیوں کی توقع رکھتے ہیں۔ اس تحریک کی خارجہ پالیسی کا طریقہ کار—یورپی یونین، روس اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا—تاحال غیر واضح ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اسٹوڈنٹ لسٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ”یورپی یونین میں سربیا کے مستقبل کو آگے بڑھانے کیلئے مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔“ ہنگری کے وزیرِ اعظم پیٹر میگیار نے بھی نئی سربیئن حکومت کیلئے حمایت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے بعد اسرائیل میں آج پہلے تاریخی انتخابات، نیتن یاہو کی آزمائش
ووچک، جنہوں نے وزیرِ اعظم کے عہدے کیلئے انتخاب لڑنے کی خاطر صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے کہا کہ شکست کے باوجود ان کی جماعت ”ثابت قدم“ اور ”متحد“ ہے۔ انہوں نے سربیا کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کا سہرا اپنے دورِ حکومت کے سر باندھا۔ اسٹوڈنٹ لسٹ کے نمائندے دیجان سوسکیک نے حامیوں پر زور دیا کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں۔ انہوں نے انتخابات کے دوران ووٹرز کے طرزِ عمل پر ان کا شکریہ ادا کیا۔