اسرائیل کی سیکولر اور لبرل اپوزیشن جماعتیں ان انتخابات کو ملک کی جمہوریت کو بچانے اور نیتن یاہو کے اقتدار کے دوران کمزور ہونے والے اداروں کو بحال کرنے کا آخری موقع سمجھتی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 1:43 PM IST | Agency | Tel Aviv
اسرائیل کی سیکولر اور لبرل اپوزیشن جماعتیں ان انتخابات کو ملک کی جمہوریت کو بچانے اور نیتن یاہو کے اقتدار کے دوران کمزور ہونے والے اداروں کو بحال کرنے کا آخری موقع سمجھتی ہیں۔
اسرائیل میں منگل یعنی آج پارلیمانی انتخابات کیلئے پولنگ ہونے والی ہے۔۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے اسرائیل پر حملوں اور اس کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد یہ ملک کے پہلے انتخابات ہیں۔ انہیں اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ان انتخابات سے اسرائیل کی آئندہ حکومت کی سمت کا تعین ہوگا۔ ملک اس وقت متعدد طویل تنازعات میں الجھا ہوا ہے، اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھتی تنقید کا سامنا ہے اور اندرونِ ملک سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو یا آئزن کوٹ ؟
اسرائیل میں جو سیاسی جماعتیں ۲۵ء۳؍فیصد ووٹ حاصل کرتی ہیں، وہ انتخابی حد عبور کرکے پارلیمنٹ میں داخل ہو سکتی ہیں۔ پارلیمنٹ کی مدت چار سال ہے۔اگلی حکومت کی قیادت کیلئے دو بڑے سیاسی اتحادوں کے درمیان مقابلہ ہے۔پہلا اتحاد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی قیادت میں قائم ہے جس میں کئی انتہائی دائیں بازو کی اور قدامت پسند مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ ان میں یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے)، شاس، اوتزما یہودیت اور مذہبی صیہونیت زیہوت شامل ہیں۔ آخری دو جماعتوں کی قیادت بالترتیب انتہائی دائیں بازو کے وزرا اتمار بن گویر اور بزالیل سموٹرچ کرتے ہیں۔ دوسرے بڑے اتحاد میں چار اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔ ان میں سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والی یاشر پارٹی، سابق نائب فوجی سربراہ یائر گولان کی جماعت ڈیموکریٹس، سابق وزیر خزانہ ایویگڈور لائبرمین کی جماعت اسرائیل بیتینو اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی قیادت والا جماعتی اتحاد ٹوگیدر شامل ہیں، جس میں کنیسٹ کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برازیل: لولا دا سلوا کی تاریخی واپسی، چوتھی بار صدر منتخب
نئے انتخابی سروے پر پابندی جمعہ سے نافذ ہونے سے قبل شائع ہونے والے تازہ ترین جائزوں کے مطابق کسی بھی اتحاد کو پارلیمنٹ میں۶۱؍نشستوں کی اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔ سرکاری نشریاتی ادارے کان کے ایک سروے میں اپوزیشن اتحاد کو۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں۵۲؍ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو۵۰؍ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ باقی نشستیں غیر وابستہ جماعتوں کو جن میں عرب اکثریتی آبادی کی دو بڑی سیاسی فہرستیں رعام (یونائیٹڈ عرب لسٹ) اور جوائنٹ لسٹ شامل ہیں، ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ۔جوائنٹ لسٹ میں حدش، بلد اور تعال جماعتیں شامل ہیں۔تاہم دونوں بڑے اتحادوں نے فی الحال عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر رکھا ہے۔سیاسی منظرنامے میں تقسیم کے باعث انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے مشکل مذاکرات متوقع ہیں۔ اگر کوئی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسرائیل میں اقلیتی حکومت قائم ہو سکتی ہے یا پھر ملک میں دوبارہ انتخابات کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔
انتخابات کے اہم مسائل کیا ہیں
اسرائیل میں ۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے مبینہ سیکوریٹی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی قدامت پسند مذہبی یہودیوں کو فوجی خدمات سے حاصل استثنیٰ پر ناراضگی اور نیتن یاہو کی جانب سے عدالتی اصلاحات نافذ کرنے کی بار بار کوششوں پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے اسرائیل کے لبرل جمہوری نظام کے ادارے کمزور ہو سکتے ہیں۔انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی سینئر تجزیہ کار اور اسرائیلی نژاد امریکی مبصر میرَو زونزین نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی سیکولر اور لبرل اپوزیشن جماعتیں ان انتخابات کو ملک کی جمہوریت کو بچانے اور نیتن یاہو کی مسلسل حکومتوں کے دوران کمزور ہونے والے اداروں کو بحال کرنے کا آخری موقع سمجھتی ہیں۔طویل جنگوں سے تھکے ہوئے عوام اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو مختلف فوجی تنازعات میں آگے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ بہت سے ووٹر سیکوریٹی اور اقتصادی استحکام چاہتے ہیں، تاہم غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان کے حوالے سے کسی بھی ایسی رعایت کے مخالف ہیں جسے وہ اسرائیلی مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
یہ انتخابات اتنے اہم کیوں ہیں؟
غزہ جنگ کے بعد یہ اسرائیل کے پہلے انتخابات ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات کو تقویت مل رہی ہے اور اسرائیل کے مستقبل کی سمت کے بارے میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ معروف اسرائیلی ماہر عمرانیات یہودا شین ہاؤ شربانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی معاشرے میں تشدد اور دائیں بازو کی سخت گیر بیان بازی کے رجحانات پہلے سے موجود تھے، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں ان میں تیزی آئی ہے۔اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے متعدد اتحادی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک نے غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی مذمت کی ہے۔۲۴؍ ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نیتن یاہو کے خطاب کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کے درجنوں نمائندے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ بعض نمائندوں نے نعرے بازی اور ہوٹنگ بھی کی۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: آکسفورڈ اسٹریٹ ٹریفک کیلئے بند، صرف راہگیروں کیلئے کھلی رہے گی
انتخابات سے قبل نیتن یاہو پر غداری کے الزامات!
تل ابیب (ایجنسی):اسرائیل میں انتخابات سےپہلے ایک فوجی کارروائی کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہواور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیںجن کے حوالے سے اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اورنیتن یاہو پر ملک سے غداری تک کے الزامات لگا ئے ہیں۔ یہ معاملہ یاہو کے خلاف مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کے مطالبے تک جا پہنچا ہے ۔ اس کےساتھ ہی ان پر یہ الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں کہ وہ انتخابات سے قبل اپنی سیاسی بقا کے لیے فوج کو استعمال کر رہے ہیں’یسرائیل ہیوم‘ اخبار کے مطابق چینل۱۲؍ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایال زامیر کو یاہو انتظامیہ کی طرف سے ایسی کارروائی سے متعلق ہدایت موصول ہوئی جو ایران کے خلاف تازہ جنگی صورتحال کا باعث بن سکتی ہے ۔ یہ ہدایت ملنے کے بعدپر ایال زامیر نے اس پر سنجیدہ غور وفکر اور بحث کا مطالبہ کیا ۔ اس اختلاف کی نوعیت کھل کر سامنے نہیںآسکی ہے لیکن نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین کہہ رہے ہیںکہ ایرانی معاملے کو انتخابی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اسرائیل بیتنا پارٹی کے سربراہ اوگڈور لائبرمین نے اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں تحقیقات کا آغاز کریں اور ان پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات کو معطل کرنے کے لیے ملک کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یائیر گولان نے ایال زامیرکی حمایت کا اعلان کیا اور یاہو کو سیکوریٹیکے لیے ایک خطرہ قرار دیا جبکہ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ نے فوج کو وزیراعظم کی انتخابی مہم کا آلہ کار بنانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ انتخابا اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہونے چاہئیں۔
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات ایک نظر میں
رائے دہندگان ۷۳؍ لاکھ ۳۲؍ ہزار
شریک پارٹیاں ۳۵
پولنگ بوتھ ۱۲؍ ہزار
نتائج
پولنگ کے آٹھ دن بعد انتخابی نتائج جاری کئے جائینگےتاہم یہ اندازہ جلد ہی مل جائیگا کہ کون کس پر سبقت لے گیا
نتائج کے بعد کیا ہوگا؟
سرکاری نتائج کے اعلان کے تقریباً ایک ہفتے بعد، صدر آئزک ہرزوگ کنیست کے کسی رُکن کو حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ وہ، جس رُکن کے مجوزہ اتحاد کو سب سے زیادہ موزوں یا امید افزا سمجھیں گے، اس کا انتخاب کرینگے؛ ان پر لازم نہیں ہے کہ سب سے بڑی جماعت یا اتحاد کے رُکن ہی کو حکومت سازی کیلئے منتخب کریں۔