حالات معمول پر، انٹرنیشنل کالز بحال، انٹرنیٹ سروس ابھی بند۔ سیکوریٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت۔
تہران میں سیکوریٹی اہلکاروں کے جنازہ میں شریک افراد۔ تصویر: آئی این این
ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا۔ حالات معمول پر آنے لگے۔انٹرنیشنل کالز بحال ہوگئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران تیار ہے، لیکن ہم منصفانہ مذاکرات کے لئے بھی تیار ہیں۔ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ برلن انسانی حقوق کے لیکچر کے لئے سب سے بدترین مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر وینزویلا کے صدر کے اغوا ءپر مسلسل خاموش رہے۔ غزہ میں ۷۰؍ہزار شہادتوں پر خاموش رہنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہئے۔
سیکوریٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی
اس دوران ایران میں جاری مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے سیکوریٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ دارالحکومت تہران میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نماز جنازہ کے دوران تہران یونیورسٹی کے اطراف کی سڑکیں جنازے میں شریک افراد سے بھر گئیں، شرکاء کی بڑی تعداد نے ایرانی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اپنے جاں بحق عزیزوں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔ ایرانی پرچموں میں لپٹے تابوت بڑے ٹرکوں میں رکھے گئے تھے جن پر سرخ اور سفید گلاب نچھاور کئے گئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جاری بدامنی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
’’ ٹرمپ اور نیتن یاہو قاتل ‘‘
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایرانی عوام کے مرکزی قاتل قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایران میں جاری بدامنی کے تناظر میں سامنے آیا ہے جہاں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نےسوشل نیٹ ورک پر لکھا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایرانی عوام کے مرکزی قاتل ہیں۔
حکومت گرنے کے آثار نہیں :بر طانوی میڈیا
دریں اثناءبرطانوی میڈیا کا کہنا ہےکہ ایران میں کرنسی کی قدر میں گراوٹ، مہنگائی اور مظاہروں کے باوجود حکومت گرنےکے آثار نہیں ہیں۔ برطانوی میڈیا نے ایران میں پچھلے ہفتے آتشزنی،گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات میں ملوث فسادیوں اور نقصانات کے نئے ویڈیو جاری کئے ۔ برطانوی میڈیا نے ایرانی سرکاری میڈیا کے کلپس نشر کئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بندش کےسبب یہ ویڈیوز پہلے سامنے نہیں آسکے تھے جبکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو فسادات میں ملوث قرار دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہناہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں گراوٹ ، مہنگائی اور مظاہروں کے باوجود حکومت گرنےکے آثارنہیں، ایران کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت میں بھی دراڑ کے کوئی آثار نہیں۔