Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان ڈومبیولی میں پانی کاسنگین بحران ، ٹینکر مافیا اور انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کا انکشاف

Updated: April 10, 2026, 12:20 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

کلیان اور ڈومبیولی میں پانی کا بحران اب محض اتفاق نہیں رہا بلکہ یہ ٹینکر مافیا اور انتظامی افسران کے گٹھ جوڑ کا ایک ایسا سنگین المیہ بن چکا ہے جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

All political parties raised this issue in the KDMC.
تمام سیاسی جماعتوں نےکے ڈی ایم سی‘ میںیہ معاملہ اٹھایا

کلیان اور ڈومبیولی میں پانی کا بحران اب محض اتفاق نہیں رہا بلکہ یہ ٹینکر مافیا اور انتظامی افسران کے گٹھ جوڑ کا ایک ایسا سنگین المیہ بن چکا ہے جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایک طرف پانی کیلئے شہری میونسپل کارپوریشن کا گھیراؤ کر کے اپنے حق کی دہائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف بلدیہ کے ایوان میں ہونے والے انکشافات نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر میں پانی کی قلت قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی ہےجسے ٹینکر لابی کا کاروبار چمکانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی)کی حالیہ جنرل بورڈ میٹنگ میں تمام سیاسی پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے متحد ہو کر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
  کارپوریٹر وشوناتھ رانے نے انکشاف کیا کہ میونسپل کارپوریشن ہر سال پانی کے ٹینکروں کی مد میں ۱۱؍ کروڑ ۵۰ ؍لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کرتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنی خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے تو پھر یہ پانی کن علاقوں میں جا رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹینکروں کے ذریعےہونے والی سپلائی کا فوری آڈٹ کروایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
 اجلاس کے دوران کارپوریٹر وشو پینکر نے انتظامیہ کی ایک اور بڑی غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ شہری پانی کے بل ادا کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن میونسپل انتظامیہ سال بھر بل ہی جاری نہیں کرتا۔ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے عہدیدار دفاتر کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں مگر انہیں’بل تیار ہو رہے ہیں‘ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے جس سے کارپوریشن کو ریوینیو کا بھی بڑا نقصان ہو رہا ہے۔شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مستقبل کی ضرورتوں کے حوالے سے کارپوریٹر امیش بورگاوکر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشیولی اور پوشیر ڈیم کے منصوبوں پر فوری کام شروع کیا جائے۔نیز نتیولی میں موجود واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ کو جدید خطوط پر استوار کر کے اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے تو پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK