وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے اعلان کیا ہے کہ میرا بھائندر میں بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کی وزیر اعلیٰ سے شکایت کی بنیاد پر آرٹی او (ریجنل ٹرانسپورٹ آفس)‘ نے یہاں کے رجسٹرڈ ۱۲ ؍ ہزار آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا مراٹھی زبان کا امتحان لے گی۔
میرابھائندر کےرکشا والوں کا مراٹھی بولنے کا امتحان لیا جائے گا-تصویر:آئی این این
وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے اعلان کیا ہے کہ میرا بھائندر میں بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کی وزیر اعلیٰ سے شکایت کی بنیاد پر آرٹی او (ریجنل ٹرانسپورٹ آفس)‘ نے یہاں کے رجسٹرڈ ۱۲ ؍ ہزار آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا مراٹھی زبان کا امتحان لے گی۔ واضح رہے کہ اسی شکایت کی بنیاد پر ان آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے پرمٹ، بیج اور ڈومیسائل کی جانچ شروع ہوچکی ہے۔
پرتاپ سرنائک کے مطابق نریندر مہتا نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو شکایت کی تھی کہ آٹورکشا کے لائسنس، بیج اور پرمٹ جاری کرنے پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہورہی ہیں۔ ان کے مطابق بیرون ریاست سے حال ہی میں ممبئی آنے والوں کو بھی رکشا اور ٹیکسیاں چلانے کی اجازت عجلت میں اور بغیر مناسب تحقیقات کے مل رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں گاڑی چلانے کیلئے ۱۵؍ برس ریاست میں رہنا لازمی ہے جس کی وجہ سے ’ڈومیسائل سرٹیفکیٹ‘ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔مراٹھی زبان کا امتحان لینے کے تعلق سے یہ منطق ہے کہ مقامی مسافروں اور ڈرائیوروں کے درمیان گفتگو کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔اگرچہ میرا روڈ اور بھائندر میں لاکھوں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور ہیں لیکن حال ہی میں لائسنس، بیج اور پرمٹ پانے والوں کی جانچ کی جارہی ہے اور یہ کارروائی یکم مئی’ یوم مہاراشٹر‘ تک جاری رہے گی۔ یکم مئی کو آر ٹی او کو حکومت کو تفصیلی رپورٹ دینی ہے۔یہ کارروائی ’پائلٹ پروجیکٹ‘ کے طور پر شروع کی گئی ہے اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر پوری ریاست میں یہ کارروائی کئے جانے کا امکان ہے۔اس جانچ کے دوران ڈرائیوروں کا ’ڈومیسائل سرٹیفکیٹ‘ بھی دیکھا جارہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کم از کم گزشتہ ۱۵؍ برس سے مہاراشٹر میں مقیم ہے۔
اس کارروائی کے تحت ڈرائیوروں کو آر ٹی او کے دفتر میں مراٹھی زبان میں چھوٹا سا مضمون لکھنے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا مراٹھی بولنے کا بھی امتحان لیا جاتا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں پاس نہیں ہوسکیں گے، ان کا لائسنس یا پرمٹ معطل کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ’مہاراشٹر موٹر وہیکل رُولز ۱۹۸۹ء‘ کے رُول نمبر ۲۴؍ میں آر ٹی او کو اس طرح کی کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس رُول میں نومبر ۲۰۱۹ء میں ترمیم کرکے اس کو مزید سخت بنادیا گیا تھا۔ ماضی میں ڈرائیور کسی مراٹھی کے ماہر سے حاصل کی ہوئی سند جمع کرواسکتے تھے لیکن ترمیم کے بعد اس میں براہِ راست آر ٹی او میں امتحان دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔اب تک کی تحقیق میں اس طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں کہ ۲۰؍ سے ۳۰؍ پرمٹ ایک ہی پتہ پر جاری کئے گئے ہیں اور کئی پرمٹ ایسے افراد کو جاری کئے گئے ہیں جن کی عمریں ۲۰؍ سال سے کچھ زیادہ ہیں اور وہ حال ہی میں مہاراشٹر میں منتقل ہوئے ہیں۔